کمبل چھوٹا ہے،پاؤں ڈھانپ لو یا سر۔۔

کسی بھی قوم کے مستقبل کا دارومدار نوجوان نسل پر ہوتا ہے کیونکہ آج کا نوجوان ہی حقیقت میں قوم کی تقدیرکا ستارا ہے ۔اس وقت دنیا میں معاشی بدحالی کی جولہر دوڑ رہی ہے اُس کے اثرات سے برطانیہ بھی محفوظ نہیں رہا اور اسی معاشی بدحالی کی جیتی جاگتی تصویریں ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔
بیروزگاری کی شرح میں بتدریج اضافہ ’معاشی بحران’ کا ایک بنیادی اور خطرناک سبب ہے۔رواں سال برطانیہ میں بے روز گار نوجوانوں میں گزشتہ برس سے 12فیصد اضافہ ہوا جس سے بے روزگار نوجوانوں کی مجموعی تعداد 1.16ملین تک پہنچ گئی ہے۔ان میں سے اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جنہوں نے آج تک برطانیہ میں کبھی کام نہیں کیا۔
اس خطرناک صورت حال کو قابو میں لانے کے لیے برطانوی حکومت نے یہ اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی کمپنی کسی ایسے 25برس سے کم عمر کے نوجوان کو کام دیتی ہے جو ایک خاص مدت سے بیروزگار ہے تو اس صورت میں اس نوجوان کی آدھی تنخواہ برطانوی حکومت ادا کرے گی۔ اس ہنگامی اقدام کا مقصد نوجوان نسل کو مزید’ناکارہ’ہونے سے بچانا اور معاشرے کا فعال شہری بنانا ہے۔ اس طرح 25سال سے کم عمر کے نوجوانوں کے کام کے مواقع تو ضرور بڑھیں گے مگر دوسری طرف 25برس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حدتک بڑھ جائے گی۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ کمبل چھوٹا ہے ۔۔۔یا تو پاؤں ڈھانپ لو یا سر۔۔۔!
ایسے میں بے روزگاری کی شرح میں تو کمی نہیں ہو گی بس چہرے بدل جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد ظاہر ہے کمپنیوں کے مالکان نئی نسل کو پرانی پر ترجیح دیں گے تاکہ ان کے 50فیصد تنخواہوں کے اخراجات کا بوجھ برطانوی حکومت اٹھا لے۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلے کا حل مستقل بنیادوں پر کیا جائے جس سے روز گار کے وافر مواقع پیدا ہوںجس سے ہر عمر کے لوگ یکساں مستفید ہو سکیں۔ اس کے لیے وہ ’خطیر رقم’جو ہر سال دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر خرچ کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی کیے جانے کا منصوبہ ہے اس کو ملکی مفادات کی خاطر تعمیری اور فلاحی کاموں پر لگا یا جائے۔ اس جنگ نے ساری دنیا میں ’معاشی بحران’ کی ایسی آگ رکھی ہے جس کی تپش ہر ملک میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ اتنا وقت ، پیسہ اور قیمتی جانیں ضائع کر کے آج تک کیاحاصل کیا گیا۔جنگوں سے تو قومیں تباہ ہو تی ہیں اورحالتِ امن میں ہی ترقی کرتی ہیں۔
ساحر لدھیانوی نے ٹھیک کہا تھا:
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ او ر خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی۔۔۔۔
بلاگر کے بارے میں
| پنجاب یونی ورسٹی کے گریجوئیٹ سہیل احمد ائیرونوٹیکل انجئیر ہونے کے ساتھ ایک فری لارنس رائٹر اور شاعر ہیں اور برطانیہ اور پاکستان کے مختلف اخبارات میں کالم نویسی کرتے ہیں۔ |































