برٹش اسپائس کوئن کمل بسرن
منگل, 09 اگست 2011

برطانیہ کی اسپائس کوئن کہلانے والی کمل بسرن نے 1985 میں دی آتھینٹک فوڈ کمپنی کی بنیاد رکھی۔ کمپنی کا ہیڈ کوارٹر شارٹن میں ہے جبکہ اسٹارک پورٹ اور چیڈل میں قائم دفاتر سے ریٹیل اور فوڈ سروسز کلائنٹس کو فروزن انڈین، اورینٹل، میڈیٹرنین اور برٹش ریڈی میڈ ڈشز سپلائی کی جاتی ہیں۔ ان کے کسٹمرز میں کو آپریٹو گروپ، ایسڈا، پب، ریستوران، ہوٹلز اور ٹریول انڈسٹری شامل ہیں۔ دو سو تیس ملازمین پر مشتمل اس کمپنی کا ٹرن اوور اکتیس ملین پونڈ سالانہ ہے جبکہ کمپنی کی باگ دوڑ ان کے بڑے بیٹے نک کے ہاتھوں میں ہے۔
کمل نے ہنستے ہوئے کاروبار کی شروعات کی کہانی یوں بیان کی کہ ’یہ اسی کی دہائی کے اوائل کی بات ہے کہ جب میں پہلی مرتبہ ریڈی میڈ سموسوں کا ایک پیکٹ گھر لائی ۔ اسوقت مارکیٹ میں ریڈی میڈ ایشین فوڈ نہیں ملتا تھا۔ میں بڑی پرجوش تھی کہ اورمارکیٹ سےریڈی میڈ فروزن سموسے خرید کرکھانے کے شوق میں اور کچھ نہیں سوچا۔ تاہم سموسے کھا کر مجھے بڑی مایوسی ہوئی۔ پہلا لقمہ کھاتے ہی میرا شوق ایک جھٹکے سے اڑن چھو ہو گیا کیونکہ سموسے بڑےبد ذائقہ اور اس میں کسی چیز کا سواد ہی نہیں تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا کہ جب میں نے سوچا کہ میں خود اس سے کہیں اچھا بنا سکتی ہوں۔میں نے اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچا۔آتھینٹک انڈین فوڈ کا آئیڈیا اسی وقت پروان چڑھا’۔
ان کی خدمات کے عوض انہیں رواں سال ایشین وویمن اچیومنٹ ایوارڈز کے تحت وویمن انٹرپنور آف دی ائیر کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس لمحے کو یاد کرتے وقت انکا کہنا تھا کہ ’ایوارڈ جیتنے کی مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ یہ میری پچیس سال کی محنت کا صلہ یا یوں کہہ لیں ایک طرح سے اعتراف تھا۔ اس ایوارڈ تقریب میں میری ملاقات دوسری انتہائی محنتی خواتین سے ہوئی جنکا تعلق اگرچہ بزنس سے نہیں تھا مگر ان کی کامیابیوں اور محنت نے میرا سر فخر سے بلند کردیا’۔
برطانیہ آنے کے سوال پرکمل نے کہا کہ ان کے والدین ساٹھ کی دہائی میں انڈین پنجاب سے یہاں تلاش معاش کے لیے ولور ہیمٹن میں آکر آباد ہوئے۔ وہ اس وقت صرف آٹھ سال کی تھیں۔ولد کو گوڈائیر ٹائیر فیکٹری میں ملازمت مل گئی جبکہ والدہ ہاؤس وائف تھیں۔
اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چار بہن بھائی ہیں او ر میں خاندان کی اکلوتی لڑکی تھی۔ بچپن بہت اچھا گزرا۔ ہمارے علاقے میں چند ہی انڈین فیملیز تھیں۔ ملنے ملانے کے لیے ہمیں کسی اور انڈین فیملی کو ڈھونڈنے میں بڑی دقت ہوئی۔ لیکن لوگ اس وقت بڑے خیرمقدمی تھے۔ وہ دور بڑا اچھا تھا اور ہمیں بہت پیار ملا۔ اسکول میں بہت دوستانہ اور گرم جوشی کا ماحول تھا۔ ہمیں اس وقت کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ اگر کوئی چیز ہمارے لیے شاکنگ تھی تو وہ یہاں کا موسم۔ کھانےہماری ثقافت کا بڑا اہم حصہ ہیں۔چونکہ میں اپنے گھر کی واحد لڑکی تھی تو میں نے اپنی ماں سے کھانا پکانا سیکھا۔ اس وقت ہر جگہ انڈین کھانے یا اس میں استعمال ہونے والی اشیاء، مصالحے نہیں ملتے تھے۔ چاہے پارٹی ہو یا کوئی تہوار میری والدہ گھر میں ہی تمام چیزیں تیار کیا کرتی تھیں۔
کمل یونی ورسٹی تک تعلیم حاصل کرنے والی اپنے خاندان کی پہلی لڑکی ہیں۔ یونی ورسٹی میں داخلے کے لیے انہیں روایتی سوچ کے حامل اپنے والدین سے ایک جنگ لڑنی پڑی۔ یہ ستر کی دہائی کا دور تھا کہ اس وقت بہت کم انڈین لڑکیاں پڑھائی کے لیے گھروں سے باہر نکلتی تھیں۔انہیں بالاخر اس جنگ میں کامیابی ہوئی اور والدین انہیں یونی ورسٹی آف شیفیلڈ بھیجنے کے لیے تیار ہو گئے جہاں انہوں نے تاریخ میں ڈگری حاصل کی۔
’یونی ورسٹی کا دور بھی بڑا خوبصورت تھا۔ گریجوشن کے بعد شادی ہو گئی ۔ میں نےٹیچرز ٹریننگ حاصل کی’۔
بتیس سال پہلےمانچسٹرشفٹ سے قبل وہ برمنگھم کے ایک اسکول میں بچوں کو ہسٹری پڑھایا کرتی تھیں۔ بائی لینگوئل جونیئر اسکول ٹیچر کمل نے 1985 میں جب اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت ان کے دونوں بچےچھوٹے تھے۔’مجھے جیسے ہی کاروبار کرنے کا خیال آیا تو میں نے سنجیدگی سے اس کو قابل عمل بنانے کے بارے میں غور شروع کردیا۔ اس وقت میرے بینک اکاؤنٹ میں پانچ ہزار پونڈ تھے۔ میں نے بینک سے اتنے ہی پیسے قرض لیے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا تاہم میں نے سوچا کہ اگر میں اس میں ناکام ہو گئی تو میں اپنی ٹیچنگ سے اس نقصان کو پورا کر لوں گی’۔
انہوں نے ابتدا میں اپنے گھر کے قریب ایک دکان کو آزمائیشی طور پر لیمب، سبزی اور چکن کے سموسے بنا کر دینے شروع کیے۔ جو پسند کیے جانے کے سبب شام ہوتے ہی ختم ہوجاتے تھےجس کے بعد انہیں حوصلہ ملا کہ اس آئیڈیے پر کام کیا جا سکتا ہے۔ 1986 میں وہ اپنے گھر کے کچن سے نو سو سکوائر فٹ کے کمرشل کچن میں منتقل ہو گئیں اور ایک پارٹ ٹائم ملازم بھی رکھ لیا۔
'اس وقت ہم تین چیزیں بنایا کرتے تھے، سموسے، پیاز کی بھاجی اور اسپرن رولز۔ میں نے کاروبار کرنا سیکھا۔ اس وقت یہ کوئی بڑا کاروبار نہیں تھا۔ ہم نے چھوٹی دکانوں سے شروعات کیں۔ ہمیں آرڈز ملتے اور ہم انہیں بنا دیتے ۔بعد میں لوگوں کی جانب سے شوق کا اظہار ہونے لگا اور ہمیں زیاہ آرڈر ملنے لگے اور ہم نے زیادہ کانوں پر مال سپلائی کرنا شروع کردیا۔ ایک سال کے بعد ہم ہولینڈ اینڈ بیرٹ سمیت کئ اچھی کمپنیوں کے کانٹریکٹ ملنے شروع ہوئے۔1987 میں ہم نے اپنے بزنس کو اسٹاک پورٹ میں بارہ ہزار پانچ اسوائر فٹ کی جگہ پر متقل کردیا کیونکہ ہم بتدریج اپنے آپریشن کو بڑھا رہے تھے مگر میرے لیےیہ مشکل وقت تھا کیونکہ مجھے ہی سارے کام کرنے ہوتے تھے۔ آپ کوئی بھی کاروبار کریں،پراڈکس کی تیاری سے تنخواہیں اور اس کی لاجسٹک تک تمام معاملات دیکھنے پڑتے ہیں۔ 1991 میں ہم نے اپنے برابر کی جگہ لے کراپنے بزنس کے سائز کو دوگنا کردیا اور سروس سیکٹر پر انحصار بڑھا دیا۔ ہم نے ریڈی میڈ میل میں اورینٹل کوزین بھی تیار کرنی شروع کردیں۔ تاہم ہمارا کاروبار دس سال بعد اس وقت زیادہ بڑھا کہ جب ہم نے پانچ ملین پونڈ کی مالیت سے قائم شارٹن میں اپنے نئے دفتر میں شفٹ ہو گئے کیونکہ ہمیں اسٹاک پورٹ میں جگہ تنگ پڑنے لگی تھی جس کے پیش نظر ہم نے ریڈی میڈ میل کے لیے 2001 میں نئی سائیٹ بنانے کا فیصلہ کیا ۔ ہم نے 2004 میں ریٹیل کسٹمرز کو اپنا مال فروِخت کرنا شروع کیا کیونکہ اس وقت ہم نے محسوس کیا کہ فوڈ سروس انڈسٹری سےہمارے اورہیڈ کو ر نہیں ہوپارہے ہیں’۔
فوڈ انڈسٹری کے اتار چڑھاؤ ک سوال پر کمل نے کہا کہ گزشہ پندرہ سال میں انڈین فوڈ کے حوالے سے لوگوں کی سوچ کا نظریہ بدل گیا ہے۔ نئے انڈین فوڈ پروگرام، روایتی انڈین کھانے فروخت کرنے والے ریستوارن کے کھلنے اور سیلبریٹی شیف کے انڈین کھانے پکاتے نظر آنےسے تو جیسےانڈین فوڈز کے حوالے سےکایا ہی پلٹ گئی ہے۔ آج انڈین کھانے بڑے مقبول ہیں اور برطانوی دستر خانوں کا اہم حصہ ہیں۔
’انڈین فوڈ اب بھی ہمارے بزنس کا سب سے بڑا حصہ ہے اور ہمیں 60 فیصد ریونیوز اس سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔انڈین کھانے ہمارا ثقافتی ورثہ ہیں اور بزنس کی اصل طاقت ہیں۔’
کاروبار کے آغاز کے پہلے ہفتے دو سو سموسے بنانے والی دی ایتھینکٹگ فوڈ کمپنی آج ایک ہفتے میں چھ لاکھ پچاس ہزار ریڈی میڈ کھانے تیار کرتی ہے۔ پکے پکائے چاول کے علاوہ اسنیکس آج بھی کمپنی کے اسٹاکپورٹ سائیٹ پر تیار کیے جاتے ہیں۔
کمل اب بزنس میں اس طرح سے ایکٹو نہیں ہیں کہ جب ایک وقت میں انہیں سارے کام خود دیکھنے پڑتے تھے۔ ان کے 31 سالہ بیٹے نک کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں جبکہ 32 سالہ پرمیندر اپنا ذاتی کاروبار کرتے ہیں۔
’نک میں بھی میری طرح یہ بزنس چلانے کا وہی جذبہ اور شوق ہے۔ وہ سات سال قبل گریجوئیشن کرنے کے بعد میرے ساتھ اس کاروبار میں شامل ہوا اور تین سال قبل ہی مینیجنگ ڈائریکٹر بنا ہے۔یہ کام وہ خود کرنا چاہتا تھا اور اپنے شوق اور اچھی سوچ سمجھ کے بعد ہی اس بزنس میں آیا ہے۔ تاہم نان ایگزیکٹو ڈائیکٹر ہونے کے باوجود میں اب بھی اس بزنس کو چلانےمیں بڑی حد تک شریک ہوں۔ اگرچہ اب مجھے کچھ دیر بیٹھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور پہلے ہی طرح بہت سے کام اب مجھے اپنے ہاتھ سے نہیں کرنے پڑتے’۔
’میں اس ملک کی شکر گزار ہوں کہ جہاں مجھے آگے بڑھنے اور اپنی صلاحتیوں کے اظہار کا موقع ملا یا جو میں کرنا چاہتی تھی اپنی محنت کے بل پر کرنے میں کامیاب ہوئی۔ میں کوئی رول ماڈل نہیں مگر میری ذات دوسری خواتین کے لیے یقینا حوصلے کا سبب ہوگی کہ اگر ہم کچھ کرنا چاہیں تو راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بخوبی عبور کرسکتے ہیں’۔
’میں نے جب یونی ورسٹی جانا شروع کیا تو اس وقت مشکل سے ہی کوئی انڈین لڑکی یونی ورسٹی میں نظر آتی تھی مگر اب حالات بدل گئے ہیں۔آج ایشین خواتین زندگی کے مختلف شعبوں سے نہ صرف منسلک ہیں بلکہ بڑا نام پید ا کررہی ہیں جس کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔’
مزید پڑھیے
کشمیر پر بھارتی موقف چیلنج کرنے والوں پر دباؤ
مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف سے اختلاف رکھنے والوں بشمول برٹش ممبر پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نیتین پیک کے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر
نیتن سنسارا سائپرس کے پیک فٹ بال کلب کے ساتھ معاہدے کرنے والے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر بن گئے ہیں۔
آلہ زیادہ کھانے والوں کوخبردار کرےگا
تحقیق کاروں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جو لوگوں کو مقررہ وقت میں خوراک کی زیادتی کے حوالے سے خبردار کرے گا۔
گھر میں پیڈی کور سے پاؤں خوبصورت بنائیے
گرمیوں میں خصوصا آپ کو کھلے جوتے یا سینڈل پہننی پڑتی ہیں ایسے میں اگر پاؤں صاف نہ ہوں تو شخصیت بہت برا تاثر چھوڑتی ہے۔































