A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

ہفتہ, 19 مئی, 2012 | 27 جمادة الثاني, 1433 ھجری
16°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

یوکے کی پہلی ایشین خاتون لارڈ مئیر نویدہ اکرم

رضیہ سلطانہ, لندن
منگل, 11 اکتوبر 2011

برطانیہ کی پہلی مسلمان ایشین خاتون لارڈ میئر کونسلر نویدہ اکرم نے یقینا دوسری خواتین کے لیے ایک اچھوتی مثال قائم کی ہے۔  وہ 2004 میں لٹل ہیرٹن سے لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سےبریڈ فورڈ کی پہلی پاکستانی نژاد کونسلر بھی منتخب ہوئیں۔ انہوں نے اپنی نوعمری کا کچھ دور پاکستان کے صوبہ پنجاب میں گزارا ہے۔ انہیں برٹش پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔   پروقار شخصیت کی مالک کونسلر نویدہ اکرم  کے والد ساٹھ کی دہائی میں تلاش معاش کے لیے برطانیہ آئے جہاں انہوں نے کچھ عرصہ حبیب ببنک کے مینیجر کے طور پر کام کیا۔

برطانیہ کے 23 شہروں میں اس وقت لارڈ میئر  ہیں تاہم اب یہ عہدہ محض سیریمونئل رہ گیاہے۔ نویدہ کے مطابق ’ بریڈ فورڈ برطانیہ کے اہم اور متنوع شہروں میں سے ایک ہے یقینا لارڈ میئر  ایک سیریمونئل رول  ہے مگر   آپ جہاں اس شہر کے ایمبیسڈر  ہیں تو وہیں  آپ کو اس شہر کے فرسٹ سیٹیزن ہونے کا اعزاز  بھی حاصل ہے تاہم اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی اتنی ہی ہیں۔ میں کونسل کی میٹنگز  کو چئیر کرنے کے ساتھ  کونسل کے چیف ایگزیکٹو کو مختلف ایشوز پر مشورہ بھی دیتی ہوں۔ لارڈ مئیر  بریڈ فورڈ کی تمام کمیونیٹیز  کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس تناظر میں لارڈ مئیر کا کردار یقینا اہم ہے’۔ لارڈ میئر کےعہدے کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں جن کے بارے  میں ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ’لارڈ میئر کے بارے میں ایک عام تاثر یہی ہے کہ کوئی ریٹائر ہونے سے قبل ہی لارڈ مئیر بنتا ہے۔  جب مجھے تمام کمیونیٹیز نے کہا کہ وہ مثبت اور اچھی تبدیلی چاہتے ہیں تو پھر میں نے اس چیلنج کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا’۔ 

ہماری کمیونٹی کی خواتین کا جہاں سیاست میں آنے کا رحجان نہیں تو گھریلو  اور پروفیشنل زندگی میں توازن کی کسوٹی پر پورا اترنے کی ذمہ داری کا بار بھی خواتین کے کاندھوں پر آن پڑتا ہے۔ برطانیہ کی پہلی خاتون لارڈ مئیر بننے کے تاثرات  بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’میں برطانیہ کی سب سے کم عمر برٹش پاکستانی یا ایشین فیمیل لارڈ مئیر ہوں۔میرا انتخاب نہ صرف بریڈ فورڈ بلکہ پورے خطے اور ہماری کمیونٹی میں تازہ ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہوا۔ میرا اس عہدے پر پہنچنا ہماری کمیونٹی کی خدمات کا اظہار ہے۔میری شکل میں کمیونٹی کی دوسری ہزاروں خواتین کو ایک حوصلہ ملنا چاہیے۔ہمارے آباؤ اجداد نے اس سوسائٹی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے’۔

برطانوی سیاست پر اگر نظر دوڑائی جائے تو گزشتہ انتخابات میں پہلی بارایک سے زیادہ ایشین خواتین رکن پارلیمان منتخب ہوئیں جبکہ بیرونس وارثی، بیرونس پولا الدین، بیرونس کشور فولکر  اور  بیرونس شیلا فیدر کہیں پہلے سے ایشین خواتین کے لیے ہاؤس آف لارڈز کےدر وا کرچکی ہیں۔ سیاست میں آنے کے ایک سوال پر نویدہ نےکہا کہ  ’میں نے ہمیشہ اپنے آس پاس مسائل اور اتار چڑھاؤ  کو  بغور دیکھا ہے ۔میں نے محسوس کیا ہے کہ کمیونٹی کی سطح پرعورت کا ایک بہت بڑا رول ہے کیونکہ خواتین کمیونٹی کی آنکھیں اور کان ہیں۔کونسلر بننے سے پہلے میں نے دیکھا کہ بریڈ فورڈ میں سیاسی سطح پر ایشین خواتین کی نمائندگی نہیں کہ جو ان کی آواز آگے پہنچا سکے۔ ہمارے ایشور اٹھائے بھی گئے مگر اس وقت یہی بات محسوس کی کہ ہماری آواز اٹھانے والے ہمارے کلچر، مسائل اور دیگر ایشوز کے حوالے سے اس قدر معلومات نہیں رکھتے۔ دوسری طرف  میرے خیال میں سٹی ہال میں پوری کمیونٹی کے ہر طبقے، مذہب اور جنس کی نمائندگی ہونی چاہیے تاہم ہماری کونسل میں خواتین کی ابتک مکمل نمائندگی نہیں ہے۔ ایک وہ وقت بھی تھا کہ جب کوئی ایک ایشین خاتون  بھی چیمبرمیں نہیں تھی۔’

سیاست میں آنا یقینا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اپنے وقت کی قربانی دینی پڑتی ہے اور بعض صورتوں میں فیملی بھی سپورٹ نہیں کرتی تاہم نویدہ اس بات سے اختلا ف کرتی ہیں۔ ’میرے پیچھے گھر والوں کی بھرپور سپورٹ تھی۔ میرے والد لیبر پارٹی کے بہت ایکٹو ممبر  رہے ہیں۔ سیاست چاہے پاکستان کی ہو یا برطانیہ کی وہ ہمیشہ اس میں دلچسپی لیتے ہیں۔میری والدہ کمیونٹی اور ویلفیئر ورک میں بڑی آگے آگے رہی ہیں۔ میں اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی ہوں۔ میری خالہ اور سابق کونسلر مسعودہ نقشبندی نے پنڈی میں گراس روٹ لیول پر بڑا کام کیا ہے تو یوں کہہ لیں کہ سیاست کے جراثیم کسی نہ کسی طور پر میرے خون میں تھے’۔ 

بریڈ فورڈ متنوع شہر ہونے کے ساتھ ماٰضی میں نسلی امتیاز  پر مبنی فسادات  کے حوالے سے کافی شہ سرخیوں میں رہا ہے ایسےمیں کسی مسلمان پاکستانی نژادکا لارڈ مئیر بنانا یقینا ایک سوال ہے۔’2001 میں بریڈ فورڈ میں نسلی فسادات ہوئے تھے جس سے بہت نقصان ہوا۔ ہماری معیشت بہت پیچھلےچلی گئی،  بے روزگاری بڑھی۔ مگر اس کے باوجود بریڈ فورڈ کی کمیونٹی اٹھ کھڑی ہوئی اور    انہوں نے کندھے سے کندھا ملا کر ایک دوسرے کا ساتھ دیا  اورر پوری کوشش کی کہ دوبارہ ایسا نہ ہو ۔یہ فُسادات بریڈ فورڈ کے لوگوں کے لیے ایک طرح کا سبق تھے اور ان کی یہی کوشش تھی کہ یہ تاریخ کھبی دوہرائی نہ جائے۔ ای ڈی ایل کی کوششوں کے باوجود ان کے احتجاج نے ناکامی کا منہ دیکھا۔ ابھی لندن میں فسادات ہوئے ہیں مگر ہمارے یہاں کونسلز، کونسل فار ماسک، مدارس،مندر اور گوردوارہ  سب نے بڑے اتحاد کا مظاہرہ کیا اور یہی کوشش کی کہ ان کا دائرہ یہاں تک نہ پہنچے’۔ 

کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر کونسلر نویدہ اپنی کامیابی کا کریڈیٹ   اپنے گھر والوں اور شریک حیات کودیتی ہیں۔ ’میں سمجھتی ہوں کہ شوہر کی سپورٹ کے بغیر یہ ممکن نہیں۔ میرے شوہر ثاقب میری بڑی طاقت رہے ہیں اور انہوں  نے ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے۔ میرے سسرال والے بھی بہت خوش ہیں ۔  میں گھریلو اور  پروفیشل زندگی کو بخوبی متوازن رکھتی ہوں’۔

برطانیہ میں پیدا ہونے والی نویدہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیتی ہیں اور  وہاں گزارے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ایک چمک سی دوڑ گئی۔ ’دونوں ملکوں کا فیوژن میرے لیے بہت شاندار رہا ہے۔ یہاں پیدا ہونے کے بعد جب وہاں گئی تو وہاں کے رسم و رواج، کلچر اور زبان سے آگاہی ہوئی۔ اور آج میں جس مقام پر ہوں اس سفر میں یقینا وہ پیرئڈ میرے لیےبہت معاون رہا۔  مجھے برٹش پاکستانی ہونے پر فخر ہے اور اسی بات نے مجھے آگے بڑھنے میں یقینا ایک توانائی دی۔ میں اپنے روٹس کی بہت عزت کرتی ہوں۔میرے والد صاحب ساٹھ کی دہائی میں یہاں آئے ۔ 1971 میں وہ واپس گئے۔ میرے والد  کا تعلق سیالکوٹ سے جبکہ والدہ ویسے تو مقبوضہ کشمیر سے ہیں مگر میرا ننھیال  پنڈی میں رہائش پذیر ہے۔ والدہ  شادی کے بعد  1972 میں یہاں آئیں’۔

نویدہ بطور کونسلر کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ  ایک فل ٹائم جاب سے بھی منسلک ہیں۔ ’میں نے 1992 میں پی آئے اے میں شمولیت  اختیار کی۔  انہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا ہے۔ اگر وہ مجھے 2004 میں بطور کونسلر انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دیتے تو آج یقینا اس مقام پر پہنچنا میرے لیے مشکل ہوتا’۔

لارڈ میئر  کے طور پر وہ بریڈ فورڈ کو برطانیہ کا ایک  جدید شہر بنانے کا عزم رکھتی ہیں۔ ’میرا رول بریڈ فورڈ کو ایک مثبت انداز میں پیش کرنا ہے۔ ہم شہر بھر کی ری جنریشن کے ٹاسک کو مکمل کرنے والے ہیں۔ دوسری طرف ہمیں خواتین اور نوجوانوں کی جمہوری عمل میں شرکت کو یقینی بنانا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ووٹ نہیں ڈالنا یا ووٹ ڈالنے کا ہمیں کیا فائدہ ہے۔مگر ذاتی فائدہ نہ  سوچیں بلکہ آپ کا ووٹ  کمیونٹی سروسزکے حوالے سے کیے جانے والے فیصلوں پر اثر انداز ہوگا۔آپ ووٹ کی طاقت سے ہی اپنی کمیونٹی کو بہتری اور ترقی کی طرف لےکر جاسکتے ہیں ۔کسی بھی سیاسی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیں مگر اپنے اس حق کا استعمال ضرور کریں۔اگر آپ ووٹ نہیں دیں گے تو یقینا فیصلہ سازی میں بھی آپ کی آواز اور خدشات کو شامل نہیں کیا جائے گا’۔

امیگریشن برطانوی سیاست کا ایک اہم موضوع رہا ہے خصوصا گزشتہ کچھ عرصے میں اس ایشو نے انتخابات کی ہار جیت میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ کنزرویٹو پارٹی کے برخلاف لیبر پارٹی کی پالیسیاں اس ایشو پر اتنی سخت نہیں رہیں۔ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ اس ایشو  کو پارلیمان کی سطح پر ایڈریس کیا جائے ۔ ہماری کمیونٹی بھی اکنامک مائیگرنٹ ہے مگر پھر بعدمیں یورپی ممالک سے بھی بہت  لوگ آئے  ہیں جس پر ہماری کمیونٹی نے شکایت کی کہ ان کے آنے سے بڑا گند ہوگیا ہے۔ مگر میں سمجھتی ہوں کہ ہر شخص کو اپنا معیار زندگی بہتر بنانے کا حق حاصل ہے۔ ہمارے والدین شاید بہتر دور میں یہاں آئے جبکہ ان لوگوں کو ایک مشکل دور دیکھنا پڑ رہا ہے۔ معاشی بحران ہے، ملازمتیں نہیں ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں ان کی سپورٹ کرنی چاہیے۔ تاہم اگر کوئی یہاں آکر مثبت کام کرنے کی بجائے انتشار یا کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہو تو اس کو یہاں رہنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ اس تناظر میں ہمیں سخت قوانین بنانے چاہیں’۔

جنوبی ایشیائی کمیونٹی میں دیگر مسائل کے ساتھ جبری شادیوں کا مسئلہ بھی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس بارے میں نویدہ کہتی ہیں کہ’میرے خیال میں یقینا یہ ایک ایشو ہے مگر اس کو بلاوجہ بہت ہائپ دی گئی ہے۔ یہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی کمیونٹی کےبعض طبقوں تک محدود  ہے مگر اس کے تدارک اور آگاہی کی ذمہ داری بھی ہماری اپنی ہے۔  یہ کام سیاست دانوں کا نہیں۔ اگر وہ کریں گے تو اس سے یقینا اپنا کوئی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ جب تک بطور کمیونٹی ہم اس ایشو کو تسلیم نہیں کریں گے تب تک کچھ نہیں ہوگا  مگر اس پرابلم کی وجہ سے میں بڑی تعداد میں شادیوں کو ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہی ہوں۔ ہماری کمیونٹی میں سنگل پیرنٹ کی تعداد بھی بڑھ رہی ہےجس کو سنجیدگی سے ڈیل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ یہ ایشوز بہت خوفناک شکل اختیار کرلیں گے’۔

پاکستان کی سیاسی صورت حال سے برطانیہ میں آباد کمیونٹی خود کو لاتعلق نہیں رکھ سکتی۔ نویدہ بھی وہاں کی سیاسی و معاشی صورت حال کے سوال پر تنی ہی متفکر نظر آئیں۔ ’پاکستان میں امیر اور غریب میں فرق کم ہونے کی بجائے بڑھا ہے۔ مڈل کلاس کلچر تقریبا ختم ہورہاہے۔ اس قدر مہنگائی ہے۔ ان حالات میں  لوگ جس طرح وہاں رہ رہے ہیں وہ یقینا ان کا حوصلہ ہے۔ میں آرمی کے ٹیک اورر کے حق میں بالکل نہیں ہوں۔جمہوری حکومت اور سیاسی عمل کومستحکم ہونا چاہیے۔ میں پاکستان میں لوگوں سے ملی ہوں جن کا یہی کہنا تھا کہ ملک میں انقلابی تبدیلی کی ضرورت ہے۔میرے خیال میں نئی سوچ کو قیادت کرنے موقع ملنا چاہیے اور عمران خان اس حوالے سے موزوں ہیں۔’ 

وہ مایوسی کی بجائے اچھی سوچ اور مثبت انداز میں آگے بڑھنے کی قائل ہیں۔ کمیونٹی کی خدمت اور ان کے مسائل کے سدباب کا عزم ان کی باتوں سےواضح جھلکتا ہے۔ ’کمیونٹی کی خدمت کرکےمجھے ذاتی خوشی ہوتی ہے۔ میں اگلے انتخابات میں دوبارہ کونسلر کے لیے ضرور کھڑی ہوں گی تاہم اگر بریڈ فورڈ کےکسی بھی علاقے سے اگلے انتخابات میں ایم پی کی سیٹ پرانتخاب لڑنے کا موقع ملاتو اس پر بھی ضرور غورکروں گی’۔ 

لارڈ مئیر کونسلر نویدہ اکرم کے تین بچے ہیں بڑا بیٹا پندرہ سال کا، دوسرا چودہ سال اور بیٹی سات سال کی ہے۔ ’میرےبچے خصوصا بیٹی بڑی سوشل ہے۔بڑےبیٹے کے جی سی ایس سی کے ابتدائی رزلٹ اچھے آئے ہیں۔ اس کو  میڈیسن پڑھنے کا شوق ہے مگر وہ مقامی سطح پر بھی اتنا ہی ایکٹو ہے اور  بہت والنٹری ورک کرتا ہے۔ بیچ والے کو رگبی کھیلنے شوق ہے اور  وہ مقامی رگبی کلب کا ممبر ہے’۔

وہ اپنے شہر اور لوگوں کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے ان کے پاس کئ منصوبے ہیں۔ ’میں بریڈ فورڈ سٹی پارک کی ری جنریشن کے پروجیکٹ پر  کام کررہی ہوں۔ اگر میرے رہتے یہ مکمل ہوجائیں گے تو پھر  میں  ان کی توسیع پر غور کروں  گی کہ اس کے ذریعے کیسے مزید بریڈ فورڈ میں سیاحت کو  فروغ دیا جائے’۔

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%

مزید پڑھیے

گرمیوں میں خود کو اسمارٹ رکھیں

معمولی بیوٹی ٹپس کی مدد سے آپ اپنی خوبصورتی کو ساراسال برقرار رکھ سکتی ہیں تاہم اس کے لیے چہرے پرتوجہ کی ضرورت ہے۔

فسادات: ’واضح حکومتی حکمت عملی کی ضرورت’

لوکل کمیونٹی اور پولیس کے باہمی اعتماد میں تسلسل کے لیے لوگوں کے جائز سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

شمی کپور کی فلمی زندگی پر ایک نظر

کریئر کی ابتدا میں ناکامی کا منہ دیکھنے والے شمی کو بالوں کی لٹ اور ڈانس نے بالاحر راتوں رات بالی وڈ سپر سٹار بنادیا۔

ہربل کاسمیٹکس کی دنیا کی بے تاج ملکہ شہناز حسین

آیوویدک کئیر اور کیور کو دنیا بھر میں متعارف کروانے والی شہناز کی ہربل مصنوعات کو آج ایک گلوبل برینڈ کی حیثیت حاصل ہے۔

 
Go To Top Go To Top