A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

ہفتہ, 19 مئی, 2012 | 27 جمادة الثاني, 1433 ھجری
16°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

عمر منصور کے فیشن کا جنون

نامہ نگار خصوصی, لندن
جمعرات, 20 اکتوبر 2011

رنگ برنگے کپڑوں کے ٹکڑوں کو  مہارت سے ایک نیا انداز دے کر نیا فیشن تخلیق کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ فیصل آبادکے  29 سالہ عمر منصور  ان ہی رنگوں میں کھیلتے اور خوب سے خوب تر ڈیزائن بنانے کی تلاش میں تین سال قبل لاہور سے فیشن پڑھنے لندن آن پہنچے۔ لندن آسکول آف فیشن نے انہیں لندن فیشن وویک تک کی راہ دکھائی اور وہ گزشتہ تین سال سے نہ صرف اس ایونٹ میں اپنے نت نئے ڈیزائن کردہ ملبوسات کے ساتھ پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں بلکہ ہر گزرتا دن ان کے تجربے میں اضافہ کررہا ہے۔ ان کے کلائنٹس میں ایمی گیے، کیٹی پرائس اور شیخا موضا کے نام شامل ہیں۔   لندن فیشن وویک 2011 میں انہوں نے مشہور اینچینٹیڈ پیلس کی دو شہزادیوں کی زندگی کی کہانی کو  ملبوسات کی شکل میں پیش کرکے داد وصول کی ۔  وہ ویمبلڈن فیشن وویک، بحرین فیشن وویک اور، کراچی فیشن وویک کے علاوہ رائل ایسکورٹ 2010 کلیکشن کے لیے ملبوسات ڈیزائن کرچکے ہیں۔ لندن آنے کا سبب بیان کرتے ہوئے عمر نے کہاکہ ’میرے آباؤ اجداد کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ فیملی گزشتہ گیارہ سال سے لاہور میں مقیم ہے جبکہ ٹیکسٹائل ہمارا فیملی بزنس ہے۔   2006 میں لندن اسکول آف فیشن میں پڑھنے کے لیے یہاں آیا تھا ۔چار  بھائی ہیں اور کوئی بہن نہیں۔ میرے علاوہ کوئی فیشن انڈسٹری میں نہیں ہے۔ میرا تو لندن آنے کا کوئی پلان نہیں تھا۔ والدہ نے اپنی مرضی سے مجھے یہاں پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کا کوئی ایک بیٹا لندن سے پڑھے۔ آرٹس میں میرا ہمیشہ سے ہی لگاؤ رہا ہے۔( ہنستے ہوئے) میں اگلی کلاس میں پروموٹ ہی اپنے آرٹس کے گریڈز کی وجہ سے ہوتاتھا۔ رنگوں سے مجھے خاص محبت ہےجس کو مد نظر رکھتے ہوئے وویمن وئیر کو منتخب کیا۔ مینز وییئر میں رنگوں کے حوالے سے آپ بڑے محدود ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں لاہوراسکول آف اکنامکس سےبی ایس سی آنرز کررہا تھا  سیکنڈ ایئر میں عمر منصور لان 2002 کے نام سے پہلی بار اپنی ڈیزائن کردہ لان لانچ کی  ۔

 فیشن ایک وہ ہے جو ڈیزائنر تخلیق کرتا ہے اور ایک وہ جو عام ٹیلر بناتا ہے تو  دونوں کے کپڑے ڈیزائن کرنے میں کیا کوئی فرق ہے؟

’ لوگ ٹیلر کے ڈیزائن کردہ کپڑے بھی پہنتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ لوگ ڈیزائن بناتو دیتے ہیں مگر خود سے تخلیق نہیں کرتے۔ کپڑے کی کٹنگ، سیٹنگ اور فنشنگ غرض ہر چیز  بہت اہم ہوتی ہے۔اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ڈیزائنر کے کپڑے لوگوں میں مقبول نہیں ہوتے تو اچھے برے ڈیزائن بنتے ہیں مگر آپ کسی طرح بھی دونوں کے عام کا موازنہ نہیں کرسکتے۔'

کوئی بھی کلیشن کسی سوچ یا آئیڈیے کا پرتو ہوتی ہے تو  ڈیزائنر ایک ہی کلیشن میں نت نئے آئیڈیاز  کہاں سے لاتا ہے؟

’ڈیزائنگ سے قبل کسی بھی تھیم یا آئیڈیے پر تحقیق بہت اہم ہے۔ میں نے اپنی چھ کی چھ کلیکشنز کےہر تھیم یا خیال پر پر بڑی  محنت کی ہے۔تھیم چننے سے قبل میں فیشن ٹرینڈز اور اپنی مارکیٹ کو  بھی مد نظر رکھتا ہوں۔اس سلسلے میں معمولی سے معمولی باتوں کا بھی خیال رکھتا ہوں۔اپنی سابقہ کلیکشنز میں  برٹش تھیٹر،  مقامی تاریخ اور جان ملٹن کی نظم لاسٹ پیراڈائس جبکہ حالیہ لندن فیشن وویک میں معروف   اینچینٹیڈ پیلس میں ایک شہزادی اور ملکہ کے اوپر گزرے دور کو بیان کیا ہے۔ تاریخ کو سمجھ کر رنگوں اور ڈیزائن کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ اس مرتبہ لوگوں کے ذہنوں میں شاہی شادی ابھی تازہ تھی تو  اسی نکتےکو مدنظر رکھتے ہوئے اس تھیم کو چنا۔’

تخلیق کا کام محنت اور وقت طلب ہوتا ہے۔آپ کس انداز میں کپڑے ڈیزائنگ کرتے ہیں؟

’ڈیزائنگ کے وقت تو دل یہی چاہتا ہے کہ کوئی تنگ نہ کرے اور فون بھی نہ بجے۔  ہاں مارکیٹنگ کے لیے یقینا آپ کو سوشلائز ہونا پڑتا ہے۔  مجھے تعریف سے زیادہ تنقید سن کرخوشی ہوتی ہے کیونکہ اس سے اگلی کلیشن میں مزید بہتری آتی ہے’۔

لان کی لانچنگ سے یک دم لندن فیشن وویک کا سفر کیسے طے ہوا ؟

’میں نے لندن میں گزشتہ تین سال میں پانچ سیزن کے کپڑے ڈیزائن کیے ہیں۔ پہلی مرتبہ بہت گھبرایا ہوا تھا اور ہاتھ پاؤں  کانپ رہے تھے۔اس وقت ڈیزائن کرتے ہوئے وئیر ایبل اور سیل ایبل کلیشن کا فرق بھی نہیں پتہ تھا۔ پہلی کلیشن بس بنا دی تھی۔ مختلف اسٹائلٹس کی جانب سے بہت حوصلہ افزاء ردعمل ملا  شاید انہیں میرے کپڑوں میں اسپارک نظر آیا  تھا کیونکہ ہر سال کئی ڈیزائنرآتے ہیں اگر ان کے کپڑوں میں دم نہیں تو وہ تنقید نگاروں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔خوش قسمتی سے مجھے اچھے مشورے ملے جن کو ذہن میں رکھ کر اگلی کلیکشن بنائی۔ ہر سیزن میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہے۔  کامیابیوں کے ساتھ ناکامیاں بھی ملی ہیں۔

کسی ایک کلیکشن میں کل کتنے ملبوسات بناتے پڑتے ہیں؟

’ایک کلیکشن میں سولہ سے بیس کے درمیان ڈریسز  ہوتے ہیں تاہم اگر کوئی اس سے زیادہ کرنا چاہے تو چالیس تک بھی چلے جاتے ہیں۔ لیکن وہ تھیم پر منحصر ہوتا ہے’۔

اس قدر مہنگے ملبوسات کی تیاری کا خرچ کیا آپ اپنی جیب سے اٹھاتے ہیں؟ 

( مسکراتے ہوئے) بڑا اچھا سوال ہے۔  ہمیں برٹش فیشن کونسل سے کچھ فنڈنگ مل جاتی ہے کچھ اپنی جیب سے کرنی پڑتی ہےاوراگر پی آر سرکل سے آپ کو کوئی کارپوریٹ اسپانسر مل جائے جو باقی خرچے وہ اٹھا لیتے ہیں تو اس سے بڑی سپورٹ مل جاتی ہے’۔

حالیہ لندن فیشن وویک سے کیسا ریسپانس ملا ہے؟

’اس مرتبہ تو بہت اچھا ریسپانس ملا اور آن دی اسپاٹ ہی آرڈر مل گئے ہیں۔ آدھی کلیکشن کے آرڈر آگئے ہیں اور  امید ہے باقی آدھی کے  بھی جلد مل جائیں گےجبکہ دو کے کاپی رائٹس میں نے دے دیئے ہیں۔ پچھلی مرتبہ اتنا اچھا  ریسپانس نہیں تھا۔ تو یہ اتارچڑھاؤ تو پھر اس فیلڈ میں آپ کو دیکھنے پڑتے ہیں مگر خوبصورتی اسی میں ہے کہ آپ ان کے ہوتے ہوئے آگے بڑھیں۔’

پاکستانی ڈیزائنر مین اسٹریم یا ویسٹرن مارکیٹ پر نظر نہیں آتے تو اس کی کیا وجہ ہے؟

’پاکستانی ڈیزائنر کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ یہاں آتے ہیں اور دیسی کمیونٹی میں شو کرکے اور کپڑے  فروخت کرکے چلے جاتے ہیں۔لندن میں شو کرنے سے پاکستان میں ان کے کپڑوں کے دام تو بڑھ جاتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ جنگل میں مور ناچا کس نےدیکھا۔’

ملبوسات کی تیاری میں فیبرک اور کلرز بہت اہمیت کے حامل ہیں، یہ بات کہاں تک درست ہے؟

’میں پیورفیبرک استعمال کرنا پسند کرتا ہوں اور میری کوشش یہی ہوتی ہے کہ زیادہ تر سلک جبکہ فال او فلو کے لیے شیفون استعمال کروں۔ اچھے فیبرک کی تلاش بھی رہتی ہے کہ آج کل کا ٹرینڈ کیا ہے جس کے لیے میں فیبرک شو ز میں شرکت کرتارہتا ہوں۔ میں چین، پیرس اورمیلان سے کپڑوں کے تھان خریدتا ہوں۔’

اس قدر مہنگے ملبوسات کے خریدار کون ہوتے ہیں؟

’ساؤتھ کینزنگٹن میں ایک شاپ میں میرے ملبوسات فروخت کے لیے رکھے گئے ہیں مگر وہاں اپائمنٹ کے ذریعے ہی کلائنس ہم سے مل سکتے ہیں۔ ہم ان کی پسند کے حساب سے ردبدل کرکے ڈیزائن بناتے ہیں۔ وہاں کچھ معززین، امراء اور فیشن کے شوقین بھی آتے ہیں۔ کارپوریٹس بھی آتے ہیں۔ اس فیشن شو میں ساؤتھ افریقہ اور برمودہ سے نئے کلائنٹس ملے ہیں۔ تاہم اس وقت میرے ملبوسات کے خریدار زیادہ تر مڈل ایسٹ سے ہیں۔’

ڈیزائن چوری بھی تو ہوتے ہیں؟

( ہنستے ہوئے)۔۔۔ ’جی ہاں ہوتے ہیں مگر خوشی بھی ہوتی ہے کہ یقینا اس ڈیزائن میں کوئی بات ہے ۔ میں نام نہیں لوں گا مگر پاکستان کے ایک مشہور ڈیزائنر نے میرا ایک ڈیزائن چرا کر اپنے  شو کا اسٹاپر ڈریس بھی بنا ڈالا  اور میگزین کے فرنٹ کور پر بھی لگوا دیا۔ مجھے دکھ سے زیادہ خوشی ہوئی کہ ایک شخص جو مجھ سے دس سال آگے ہے آخر میرے ڈیزائن میں کوئی نہ کوئی بات تو ہے کہ جس کی وجہ سے اس نے کاپی کیا۔ میرا ایک اور ڈیزائن یہاں کے ایک اسٹور میں بھی کاپی ہو ا۔’

فیشن ڈیزائنر بننے کے بعد لوگوں کا ردعمل کیسا رہا؟

’ابتداء میں تو  رشتہ داروں نے گھر والوں کو کہا کہ یہ لڑکا کس کام میں پڑگیا ہے اس کو پڑھائی کرنی چاہیے۔ صرف خواتین کے کپڑے کیوں بنا رہا ہے۔ یہاں اپنی کمیونٹی سے ابھی تک ملا جلا ریسپانس ملا ہے۔ پاکستان سے لندن آنے والی ایلیٹ کلاس سے آرڈرز ملتے ہیں  اور ان کا رویہ بڑا اچھا ہے مگر یوکے بیسڈ پاکستانی ایلیٹ کلاس کا رویہ بہت مختلف ہے۔ کیونکہ وہ فیشن کا نہیں بلکہ سیونگ کا ٹیسٹ رکھتے ہیں کہ بس زیادہ سے زیادہ پراپرٹی بنا لیں۔ وہ دس پونڈ سے زیادہ قیمت کا لباس نہ خود پہنیں گے اور نہ اپنی اولاد کو پہننے دیں گے۔  اب لوگوں کا رحجان تبدیل ہوا ہے اور کارپوریٹس بینک لندن فیش ویک کا ریسپانس دیکھ کر مجھ سے ڈریس بنوانے لگے ہیں۔’

وویمن اور مینز وویئر کی ڈیزائننگ میں کیا فرق ہوتا ہے؟

’میرے خیال میں وویمن وئیر آسان جبکہ مینز ویئر بہت مشکل  ہے۔یہ بہت حساس سبجیکٹ ہے اور اس کی ڈگری کے لیے داخلہ لینا بھی اتنا ہی مشکل ہے۔  ویسے مزے کی بات یہ ہے کہ اس طرف زیادہ تر لڑکیاں ہی جاتی ہیں۔ لند ن کالج آف فیشن میں بھی مینز وئیر میں 95 فیصد لڑکیاں ہی نظر آتی تھیں۔ اس کی فنشنگ بہت اہم ہے۔  خواتین کے ملبوسات میں آگر کوئی کٹ غلط بھی لگ جائےتو وہ فیشن بن جاتا ہے جبکہ مینز وئیر میں ایسا نہیں ہوتا۔’

آپ کی زیادہ تر کلیشن ویسٹرن ویئر ہے کیا ایسٹرن ویئر اٹریکٹ نہیں کرتے؟

’نہیں ایسی بات نہیں ہے،میں پاکستانی کلائنٹس کے لیے ان کی فرمائش پر ایشین کپڑے بھی ڈیزائن کرتا ہوں۔ویسٹرن کلیکشنز  پر توجہ کی وجہ شاید یہی تھی کہ اگر میں یہاں رہ کر کام کرنا چاہ رہا ہوں تو مجھے پھر مین اسٹریم فیشن کو ٹرائی کرنا چاہیے۔ یہی سوچا تھا کہ اگرمین اسٹریم میں کامیا ب نہیں ہوا تو پھر دیسی ڈیزائنگ کی طرف چلا جاؤں گا۔ دوسرے ہمارے لوگوں کا ٹیسٹ بہت مختلف ہے۔ یہاں کے دو بڑے فیشن میگزین بھی کچور اور کچرے میں فرق محسوس نہیں کرتے۔وہ ساؤتھ ہال کے پندرہ پونڈ والے کپڑوں کےاشتہارکے ساتھ ایک ڈیزائنرکا اشتہار بھی اتنے ہی پیسوں میں لگا دیں گے جبکہ پاکستان اور انڈیا میں فیشن میگزین کی بھی ایک کلاس ہے۔ وہاں ملبوسات کی قیمت اور برینڈ کے اعتبار سے الگ الگ میگزین ہیں انہوں نے ایک ہی جگہ کھچڑی نہیں پکائی ہوئی۔ یہاں ایشین مارکیٹ میں فیشن جرنلرم کاوجود ہی نہیں۔ آپ ساؤتھ ہال اور گرین اسٹریٹ کا مقابلہ بونڈ اسٹریٹ کے ساتھ نہیں کرسکتے۔’

پاکستانی ڈیزائنر کی مارکیٹ یہاں کیسی ہے؟

’بڑی اچھی ہے کچھ اسٹورز نے پاکستانی اور انڈین ڈیزائنرز کے کام کو رکھا ہے اور وہ سیل بھی ہوتا ہے۔ مگراس کی اتنی بڑی مارکیٹ نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں لوگ کسی اور کا مہنگے سے مہنگا لباس و خرید لیں گے مگر اپنے ڈیزائنر کا چالیس پونڈ کا ڈریس بھی نہیں خریدیں گے۔مسئلہ یہ ہے کہ بہت خراب فیبرک پر بالی وڈ اسٹائل میں اگر ستارے لگے ہوں تو وہ بک جاتی ہے۔ یہاں ٹیسٹ کا واضح فرق ہے۔’

سال کے کتنے دن کام کرتے ہیں؟

’اسپرنگ۔ سمر سیزن زیادہ مصروف ہوتا ہے کیونکہ اسمیں کلیشن بنانے اور اس پر تحقیق کرنی ہوتی ہے۔ ویسے میرا کلینڈر سارے سال مصروف رہتا ہے کہ اگلے سیزن کی تیاری اور موجود آرڈز کو وقت پر پورا کروں  ۔ میں اپنے ڈریسز خود نہیں سیتا  لیکن  ماہرٹیلرز سے سلواتا ہوں۔ ان کے ساتھ  بیٹھ کر اپنے ڈیزائن کے مطابق سلائی کروانی پڑتی ہے۔’

کھبی کسی غیر متوقع صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ؟

’جی، بہت سارے ڈرامے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ایسا بھی ہوا کہ میں نے کپڑے کے تھان کچھ آرڈر دیا اور مجھے جو ملا وہ کچھ اور تھا جبکہ میرے پاس وقت بھی کم تھا تو  اس کی وجہ سے اسٹائل سے لے کر میک اپ تک بہت کچھ بدلنا پڑا۔  ماڈل کے معاملے میں اللہ کا شکر ہے کہ کوئی غیر معمولی بات پیش نہیں آئی ۔ میں ماڈل کے انتخاب کے حوالے سے ایجنسی پر انحصار کرتا ہوں۔ میں انہیں اپنی شرائط بتا دیتا ہوں کہ میرے ڈریسز کے لیے مجھے کیسی ماڈلز چاہیں۔ ہاں البتہ میرے اپنے پہننے کے کپڑے بالکل آخری لمحوں پر میرے دوست لے کر آرہے ہوتے ہیں۔’

ایشین اورمسلمان ہونے کے ناطے کوئی مشکل پیش آئی؟

’میرے خیال میں میری مشکل بھی دیگر فیشن ڈیزائنر کی  طرح ہی ہوگی ۔ ہاں اگر میں ایشین مین اسٹریم میں کام کرتا تو شاید مشکل زیادہ پیش آتی۔ یہاں گلاس سیلنگ تو ہوتی ہے مگر آگر ایک بار آپ اس کو عبور کرلیں تو پھر میرے خیال میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔’

فیسن وویک میں انٹری کا معیار کیا ہے؟

’اس کے سلیکشن کا معیار کافی سخت ہوتاہے مگر میں اس وقت کیوں پڑھ رہا تھا تو مجھے اپنے استاتذہ کی بھرپور رہنمائی حاصل تھی جس کے سبب پہلی مرتبہ انٹری میں دشواری نہیں ہوئی مگر میں یہاں یہ ضرورکہنا چاہوں گا کہ ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھتا ہوں۔’

کسی اور ڈیزائنر کے کام نے انسپائر کیا؟

جی ہاں بہت سے دوسرے ڈیزائنر خصوصا سینئرز کے کام کو دیکھ کر یقینا آپ کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔پال کیسٹیلو، ری ماکرا  اور زوہیر مراد کا کام اچھا ہے۔ جان روچا اور دیگر برطانوی ڈیزائنرز کا کام بہت اچھا ہے۔

ملبوسات ڈیزائن کرتے وقت کیا سوچ ہوتی ہے؟

’میرے ذہن میں  اس وقت ایک مضبوط اور نڈر خاتون ہوتی ہے جس کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ اس کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی کہ اگر اس نے یہ پہنا تولوگ کیا کہیں گے۔آج کے دور کی ایک پراعتماد لڑکی۔’

کس بالی ووڈ ہیروئن کے لیے کپڑے ڈیزائن کرنا چاہیں گے؟

’مجھے پریانکا چوپڑہ کا باڈی اسٹرکچر اور انداز بہت پسند ہے۔دیپیکا بھی بہت خوبصورت فیگر کی مالک ہیں ۔ ہالی ووڈ میں پینالو کروز اچھی لگتی ہیں۔’

یہاں کی فیشن مارکیٹ  اور پاکستان کی فیشن انڈسٹری میں کیا فرق ہے؟

’یہاں فیشن ہر ایک کے لیے بنایا جاتا ہے۔ بڑے اسٹور بھی ہیں جو کم آمدنی والے لوگوں کےلیے فیشن بنا رہے ہیں۔یہاں فیشن لوگوں کے لیے جبکہ پاکستان میں کلاسز کے لیےہے۔  وہاں اگر پانچ فیصد طبقے کو فیشن کا ٹیسٹ ہے یا اچھے کپڑے پہننے کی تمیز ہے تو یہاں اگر آپ اپنی کمیونٹی کی بات کریں  تو سو فیصدی لوگوں میں فیشن کا کوئی ٹیسٹ ہے ہی نہیں۔’

آگے مزید کیا کرنے کا سوچا ہے؟

’آگے چل کر ماس پروڈکشن میں آنے کا ارادہ ہے۔ میں اپنا اسٹائل یا برینڈ اسٹیبلش کرنے کی کوشش میں ہوں کہ لوگ میرے کپڑے دیکھتے ہی بول اٹھیں کہ یہ عمرمنصور کا برینڈ ہے۔دوسرے پاکستان میں بڑے پیمانے پر اپنی  ڈیزائنر کلیکشن متعارف کروانے کا پلان  ہے۔’

پاکستان میں کس ڈیزائنر سے متاثر ہیں؟

’پاکستان میں تو جی عمر سعید  اور ماہین خان کا کام بہت اچھا ہے۔ دیپک پروانی کے کلرزبہت اچھے ہوتے ہیں۔’

ڈیزائننگ کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں؟

’ڈیزائنگ نہ  کررہا ہوں تو مجھے آرٹ کی نمائشوں میں جانے کا شوق ہے۔ وہاں سے بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔’

سیاست سے کوئی دلچسپی ہے؟

’پہلے تو نہیں تھی مگر اب کچھ عرصے سے ہو گئی ہے کیونکہ فیشن جرنلسٹ کی جانب سے بھی ملکی سیاسی صورت حال کے حوالے سے بڑے سوالات کیے جانے لگے تھے۔’

شادی کب تک کرنے کا ارادہ ہے؟

’شادی کے  بارے میں لگتا ہے اب جلد سوچنا پڑے گا۔’

فیشن یا ڈیزائننگ امراء کے شوق تصور کیے جاتے ہیں اور اکثر لوگ شوق کے باوجود اس فیلڈ میں آنے سے ہچکچاتے ہیں ان سے کچھ کہیں گے؟

’جی ہاں میں ان سے اتنا ہی کہوں گا کہ ویسٹرن مارکیٹ میں آنے سے قبل ٹرینڈز،  لائف اسٹائل اور ہسٹری سے واقفیت رکھیں۔ مشکلات تو یقینا ہر فیلڈ میں آتی ہیں مگر فیصل آباد کے ایک چھوٹے سے علاقے کا لڑکا اگر لندن فیشن وویک میں شرکت کرسکتا ہے تو یقینا دوسروں کے لیے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی مگر اس کے ساتھ خود پر یقین، حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ ضروری ہے۔’

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%
 
Go To Top Go To Top