ورلڈ بینک کی قرضہ روکنے کی دھمکی
سوموار, 24 اکتوبر 2011

ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو ڈیم کی تعمیر کے لیے دئیے جانے والے ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کے قرضے میں مبینہ کرپشن کے الزامات کے بعد انہیں معطل کر رہا ہے۔
اس سال فروری میں بینک کے اب تک کسی بھی ملک کو دئیے جانے والے اس سب سے بڑے فنڈز کو بنگلہ دیش میںدریائے پدما پر پل کی تعمیر کے لیے استعمال کیاجانا تھا۔
چھ اعشاریہ ایک پانچ کلو میٹر طویل اس پل کو بڑی گاڑیوں اور ٹرینوں کی آمد ورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور توقع ہے کہ اس کے ذریعے ملک کے نسبتا دور دراز کے جنوبی علاقوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی۔
بینک کا کہنا ہے کہ فنڈز کومبینہ طور پر ناجائز طریقے سے استعمال کیے جانے الزامات کے بعد اس نے قرضے کو معطل کردیا ہے جو مجموعی طور پر دو اعشاریہ نو بلین ڈالر ہے۔
ورلڈ بینک کے بنگلہ دیش میں ڈائریکٹر ایلن گولڈسٹین نے اے ایف پی کو بذریعہ ای میل بتایا کہ ہم فنڈز میں مبینہ کرپشن اور فراڈ کے معاملے کی مکمل تحقیقات کیے بغیر اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کریں گے۔
بنگلہ دیش کے فنانس منسٹر اے ایم اے موہیت کا کہنا ہے کہ فنڈز کے مبینہ ناجائز استعمال کے معاملے کی چھان بین کے لیے حکومت نے انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بینک نے قرضے کی ادائیگی کو عارضی طور پر معطل کیا ہے ۔
منصوبے کے مطابق اس پل کو 2014 تک بن کر تیار ہونا ہے اور یہ ملک کا سب سے بڑا پل ہوگا ۔ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کی انتخابی مہم کا یہ ان کا بڑا نعرہ بھی تھا۔
ایک تحقیق کے مطابق اس پل سے ان دورافتادہ علاقوں میں غربت کی شرح میں کمی اور ملک کی سالانہ جی ڈی پی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔



























