اپوزیشن کو رام کرنے کی کوششیں
سوموار, 24 اکتوبر 2011

نیپال کے نئے وزیراعظم ڈاکٹر بابو رام نے اپنے ایک وزیر کو ان کے عہدے سے ہٹا کر اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے سیاسی انتشار کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جو مبینہ طور پر ایک بڑے ہندو رہنما کے قتل میں ملوث بنائے جاتے ہیں۔
وزیراعظم کے ایڈوائزر رام راجن یادو نے صحافیوں کو بتایا کہ پارٹی نے امن کے عمل اور نئی آئین کی تشکیل پر کسی ممکنہ منفی اثرات سے بچاؤ کے لیے لینڈ ریفارم منسٹر پرابھو شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
سابق وزیر قانون پرابھو شاہ اس وقت خبروں میں آئے کہ جب رواں سال پولیس نے ہندو رہنما کنشی ناتھ تیواری کے قتل کے شبہے میں ان کے ایک ساتھی سمیت دو افراد کو گرفتار کیا۔
تیواری کو 2009 میں سرعام اس وقت گولی مار کرہلاک کردیا گیا تھا کہ جب وہ ماؤ باغیوں کے ایک پرامن احتجاجی گھیرے کو توڑنے کی کوشش کررہے تھے۔ وہ برگنج ٹاؤن پر ماؤ کے پرامن احتجاج پر حملہ کرنے والے ہجوم کی قیادت کررہے تھے اور انہوں نے شاہ سمیت دیگر اہم ماؤ رہنماؤں کو زخمی کردیا تھا۔
گزشتہ سال دو موٹر سائیکل سواروں نے تیوری پردن دھاڑے فائرنگ کردی جس میں وہ موقع پر ہی جان بحق ہو گئے تھے۔
گزشتہ ماہ پولیس نے ان دونوں افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے مبینہ طور پر تیواری پر گولی چلائی تھی اور دوران تفتیش انہوں نے دعوی کیا کہ شاہ نے ہی انہیں تیوری کو قتل کرنے کوکہا تھا جبکہ موٹر سائیکل چلانے والے شاہ کے ایک قریبی ساتھی تھے۔
پولیس شاہ کے خلاف وارنٹ جاری کرنے یا انہیں گرفتار کرنے سے کترا رہی ہے ۔ دوسری طرف ماؤ رہنماؤں نے اس کو اپنی کردار کشی کی مہم قرار دیا ہے۔
اگرچہ ماؤ پارٹی نے شاہ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے مگر اپوزیشن پارٹی مزید اقدامات کا مطالبہ کررہی ہے۔



























