آئی ایم ایف کی لائن کلئیر کردی
منگل, 25 اکتوبر 2011

افغانستان میں پارلیمان نے ملک کے سنٹرل بینک کو بیل آؤٹ پیکج کی مد میں رقم کی ادائیگی کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد توقع ہے کہ آئی ایم ایف ملک کو نئے قرضے جاری کرسکے گا۔
ایوا ں زیریں میں منظور کیے گئے ایک سپلیمنٹری بجٹ کے مطابق سینٹرل بینک کو 825 ملین پونڈ میں سے پہلی قسط یعنی 51 ملین پونڈ کی فوری کی ادائیگی کی جائے گی جو اس نے کابل بینک انتظامیہ اور حکام کی کرپشن کے نتیجے میں بینک کو دیوالیہ ہونےسے بچانے کے لیے ادا کیے تھے۔
آئی ایم ایف نے نئے قرض کی منظوری کے لیے پارلیمان سے منظوری کی شرط عائد کی تھی۔ آئی ایم ایف کے ہاتھ کھینچتے ہی ملک میں امدادی پروگرام کے لیے جاری اربوں ڈالر بھی تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ گزشتہ سال اس مالیاتی اسکینڈل کی وجہ سے ملک کا معاشی نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ بینک کے پیسوں میں ایک بلین ڈالرکی اس کرپشن میں حامد کرزئی اور نائب صدر محمد قاسم کے رشہ ادر ملوث تھے۔ اس واقعے کے منظر عام پر آتے ہی افغان حکومت نے بینک کو اپنی تحویل میں لے کر دو حصوں میں تقسیم کرکے چوری کیا گیا کچھ پیسہ واپس لانے میں کامیا بی حاصل کی تھی۔



























