ترقی پسند صحافی حمید اختر کی یاد میں تقریب
بدھ, 26 اکتوبر 2011

فیض فاؤنڈیشن کے زیراہتمام ترقی پسند شاعر حمید اختر کی یاد میں ایک تقریب سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ حمید اختر جیسے لوگ روز پیدا نہیں ہوتے۔ انہوں نے اپنے شعبے میں جس قدر نام کمایا اس کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
لیٹن اسٹون لائبریری میں گزشتہ روز ہونے والی اس تقریب کی صدارت پروفیسر امین مغل نے کی۔ پروفیسر امین مغل نے کہا کہ ان کا اور حمید اختر کا بڑا پرانا تعلق ہے۔انہوں نے کھبی ذاتی فوائد کے لیے صحافتی اصولوں کو قربان نہیں کیا بلکہ جو دیکھا اور محسوس کیا وہ لکھا۔
آصف جیلانی نے کہا کہ اختر حسین اشتراکیت کے فلسفے پر یقین رکھتے تھے۔ مظہر علی خان نے کہا کہ ان کا پورا دور صرف ان کی جدوجہد کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔
تنویر زمان نے کہا کہ حمید اختر نے اپنی زندگی کے 75 سال م ترقی پسند تحریک کی ترویج میں صرف کیے اور پسے ہوئے عوا م کے مسائل کو اجاگر کیا۔
محمد سرور نے کہا کہ حمید اختر نے کھبی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ عاصم شاہ نے حمید اختر کی تصنیف سے چند اقتباسات پڑھ کر سنائے۔ تقریب کے آغاز میں حمید اختر کا ایک ٹی وی انٹرویو بھی دکھایا گیا۔



























