ممبئی: تین سال میں ہسپتالوں کی ریکارڈ آمدنی
بدھ, 26 اکتوبر 2011

ملک کی معاشی مجموعی طور پر اگرچہ ست ہو مگر ممبئی کے ہیلتھ کئیر کے بزنس میں بڑھوتی کے آثار ہیں ۔ شہر بھر میں مزید نئے ہسپتالوں کے قیام کے منصوبے بھی زیر غور ہیں تاہم اس کے باوجود تین سال میں شہر کے بڑے ہسپتالوں کی آمدنی میں اوسط تیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔
پرائیوٹ ٹرسٹ کے تحت چلنے والے پانچ بڑے ہسپتالوں کی آمدنی کی کے گشوارے ظاہر کرتے ہیں کہ2007 میں ایک دن میں ہر بستر پر ان ہسپتالوں کو بارہ ہزار ایک سو آٹھ روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ 2010 میں یہ بڑھ کر پندرہ ہزار پچاس روپے پر پہنچ گئی۔ اس قیمت میں بستر کی قیمت کے ساتھ سرجری، نرسنگ، طبی آلات، ادویات کھانا پینے اور بجلی سمیت دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ تین سو بستروں والا ہسپتال سال میں تقریبا 250 کروڑ روپے تک کمائے گا۔
چیرٹی کمیشن کے ڈیٹا کے مطابق ہندوجا ہسپتال کی آمدنی دوہزار سات میں 194 کروڑ روپے سے تجاوز کرکے 2010 میں 278 کروڑ روپے پر پہنچ گئی ۔ اسی مدت میں بیچ کینڈی کی آمدنی میں 42 فیصد اضافہ ہوا ا ۔جسلوک ہسپتال کی آمدنی 131 سے بڑھ کر 176 کروڑ روپےپر جبکہ بمبئی ہسپتال کی آمدنی تیس فیصد کے اضافے سے 162 کروڑ روپے سے 212 کروڑ روپے پر پہنچ گئ۔
لالاوتی ہسپتال کی آمدن میں سب سے کم یعنی انیس فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔
واضح رہے کہ ان ہسپتالوں کی گنجائش میں اس عرصے میں کوئی قابل ذکر و وسعت نہیں کی گئی ہے۔ 175 بستروں پر مشتمل بیچ کینڈی ہسپتال کی آمدنی میں ہر سال دس سے پندہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ہندوجا ہسپتال میں گزشتہ پانچ سال میں صرف 69 بستروں کا اضافہ ہوا لیکن اس کی آمدنی تیرہ فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھی ہے۔ ملک بھر میں ہیلتھ کئیر کی آمدنی بھلے سست ہو مگر دیگر شہروں جیسے کلکتہ، بنگلور اور ممبئی کے مقابلے میں نیشنل کیپیٹل ریجن میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔



























