بانڈیڈ لیبر کے چیمپئن شاہد دستگیر خان
اتوار, 06 نومبر 2011

پاکستان کے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے شاہد دستگیر خان انگلینڈ اور ویلز کی سیئنر کورٹس کے سولیسیٹر ہیں اور گزشتہ پچیس سال سے ایسٹ لندن میں خانز سالیسیٹرز کے نام سے اپنی پریکٹس چلارہے ہیں۔ ہیومن رائٹس، پرو ڈیموکریسی اور سوشل جسٹس کے سرگرم کارکن ہونے کے ساتھ وہ جنوبی ایشیاء میں چائلڈ اوربانڈیڈ لیبر کے خلاف بھرپور مہم چلاتے رہے ہیں۔ وہ پہلے پاکستانی ہیں جنہوں نے 1993 میں اس موضوع پر ایک دستاویزی فلم بھی بنائی۔ شاہد کونسل آف اینٹی سلیوری انٹرنیشنل کے پہلے برٹش پاکستانی رکن ہیں۔ایک عرصے تک پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک رہنے کے بعد 1998 میں تحریک انصاف کے ہیومن رائٹس ونگ کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ شاہد دستگیر خان یورپ اور امریکہ کے علاوہ افریقہ، مشرق وسطی، ساؤتھ ایشیا اور فار ایسٹ ایشیاء سمیت تیس سے زائد ممالک کی سیاحت کرچکے ہیں۔ مختلف اخبارات اور رسالوں کے لیے لکھنے کے ساتھ ساتھ بی بی سی ٹی وی، ریڈیو اور چینل فور کے علاوہ پاکستانی ٹی وی پر ہیومن رائٹس اور بانڈیڈ لیبر کے ایشوزپر اظہار خیال کرتے رہے ہیں۔
ان کے والد ایک معروف کریمنل لائر تھے۔’ میرے والد غلام دستگیر خان کراچی ہائی کورٹ میں پریکٹس کرتے تھے۔ وہ علی گڑھ یونی ورسٹی سے فارغ التحصل تھے۔ یہاں بار ایٹ لاء کی تعلیم حاصل کرنے آئے تھے۔ تاہم بچوں کی اچھی تعلیم کی غرض سے یہی کے ہو رہے۔ وہ یہاں کسٹمز اینڈ اکسائز ڈپارٹمنٹ سے منسلک ہو گئے۔ دس سال قبل ان کا انتقال ہوا ہے۔ انہیں شعر و شاعری سے بڑا شغف تھا۔ ان کا تخلص آرزو تھا۔ ریڈ برج لٹریری سوسائٹی کے قیام کا آئیڈیا بھی دراصل ان کا ہی تھا۔’
شاہد اپنی جوانی کے اوائلی دنوں میں ماؤزے تنگ، بھٹو، یاسر عرفات اور نیلسن مینڈیلاجیسی شخصیات اور ان کی جدوجہد سے بڑے متاثر تھے جبکہ فیض احمد فیض اور حبیب جالب کی نظمیں گایا کرتے تھے ۔ ’میں بچپن سے سماجی انصاف اور لیفٹ ونگ سیاست میں بڑا سرگرم تھا۔ مجھے ان لیڈروں کی ظلم اور جبر کے خلاف اور آزادی کے حصول کےلیے جدوجہد بڑی متاثر کرتی تھی۔’
برطانیہ آنے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’ میں کراچی سے بی ایس سی کا امتحان دے کر والدین کے پاس یہاں چلا آیا ، اس وقت میری عمر یہی کوئی انیس سال ہوگی۔ والد چاہتے تھے کہ میں انجنئیر بنوں ۔ یہاں آکر فائنل تک چارٹر ڈ اکاؤنٹنسی پڑھی اور سولیسیٹر بننے کے بعد برٹش انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ کی ممبرشپ بھی حاصل کی مگر مجھے قانون پڑھنے کا شوق تھا جس کی وجہ سے شعبہ تبدیل کرکےوکالت میں آگیا۔ میں نے اپنی زندگی کے ستائیس، اٹھائیس سال سماجی انصاف اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں گزارے ہیں۔’
1985 میں خانز سولیسیٹرز کے نام سے ایسٹ لندن میں اپنی پریکٹس شروع کی تاہم اس وقت کے نوجوان شاہد کے عزائم بالکل مختلف تھے۔’1982 میں مجھے رولز آف سولیسیٹر مل گیا جس کے بعد میں نے اپنی پریکٹس شروع کی تاہم اس سے قبل تین سال تک سینٹر ل لندن اورکینٹ میں ایک انگلش کمپنی کے ساتھ بھی پریکٹس کی۔ خانز سولیسیٹرز کی شروعات گھر سے کی بعد ازاں فارسٹ روڈ پر ایک دفتر لےلیا۔ بس تب سے اب تک کوئی پچیس سال ہو گئے ہیں۔ میں اس وقت والتھم فارسٹ کا سب سے کم عمر سولیسیٹر تھا اور شاید برطانیہ کا بھی۔ مجھے وہاں بڑا اچھا ریسپانس ملا۔ ’
ستر اسی کی دہائی میں برطانیہ میں رنگت اور مذہب کی بنیاد پر ایشین سے بڑا امتیاز برتا جاتا تھا اور ایک طرح کی سخت گلاس سیلنگ تھی۔’ میں نے کبھی اس ایشو کو سوچا تک نہیں کیونکہ میں سجھتا ہوں کہ ہماری ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں مگر ہر انسان برابر ہے۔ اگرآپ کی اپنی سوچ میں یہ اونچ نیچ آ جائے تو پھر آپ کچھ بھی کام نہیں کرسکتے۔ میں انگلش اور جوئش فرم کے ساتھ کام کرتا رہا مگر حقیقت ہے کہ مجھے کھبی کوئی امتیاز محسوس نہیں ہوا۔ مگر ایسا بھی نہیں کہ اس دور میں ایشینز سے امتیاز نہیں برتا جاتا تھا، بالکل تھا۔’
خانز سولیسیٹرز کے نام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے آپ کو اپنے نام سے ہی پریکٹس کھولنی پڑتی تھی تاہم آج لوگ انگریزی ناموں سے بھی پریکٹس کھول لیتے ہیں۔’
اس سفر کی شروعات کی کہانی وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں، ’میں نے اکیلے کام شروع کیا مگر پھر ٹیم بنتی گئی۔ ابتداء میں ایک آئرش میرا پارٹنر بنا۔ اب ہماری فرم میں آٹھ نو سولیسیٹرز کام کرتے ہیں۔ میں اس کے مینیجنگ پارٹنر کے طورپر ہوں۔ ہم اپنے کلائنٹس کو پرسنلائزڈ سروس فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مفادات کا تحفظ ہی ہماری ذمہ داری ہے۔میں زیادہ تر ہیومن رائٹس، فیملی لاء، امیگریشن اور کریمنل لاء کے کیسز ڈیل کرتا ہوں۔ ’
اپنے کلائنٹس کے بارے میں شاہد نے بتایا کہ ’ملے جلے ہیں، ساٹھ فیصد پاکستانی جبکہ کریبین، افریقن اور جیمیکن کلائنٹس بھی ہیں۔’
ایتھنک مینارٹی کمیونٹی میں سیام فام کے بعد پاکستانی اور بنگلہ دیشی کمیونٹی کے سب سے زیادہ افراد مختلف جرائم کے تحت برطانوی جیلیوں میں ہیں۔ اس کی وجوہات کے سوال پر شاہد نے کہا کہ ’لوگ کہتے ہیں کہ ماں باپ نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت نہیں دی جس کی وجہ سے بچے بگڑ گئے مگر میں سمجھتا ہوں کوئی ماں باپ نہیں چاہتا کہ ان کے بچے خراب ہوں۔ میرے خیال میں جس علاقے اور سماجی ماحول میں ہم رہتے ہیں اس کا بہت اثر پڑتا ہے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری پہلی نسل جو یہاں آئی تھی وہ اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکی۔ وہ بس فیکٹریوں، شاپس اور دیگر چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے رہے جس کے سبب ان کی اکثریت پسماندہ علاقو ں میں آباد ہے چونکہ ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں تو ہمارے مسائل بھی وہی ہیں۔ گھریلو تشدد اور جبری شادیوں کے کافی کیسز آتے ہیں۔ سوشل مسائل بہت زیادہ ہیں مگر باہر کم آتےہیں دوسرے لفظوں میں کہہ لیں کہ معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے ہم بھی اس سے محفوظ نہیں۔ تعلیم کے شعبے میں بھی ہم پیچھے ہیں۔’
برطانوی نظام انصاف کی دنیا بھر میں مثالیں دی جاتی ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ’ اس ملک کا عدالتی نظام بہت مضبوط اور مکمل آزادہے۔ کوئی سفارش یا ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ یہاں ’جسٹس ڈیلیڈ جسٹس ڈینائیڈ’ پر یقین کیا جاتا ہے۔ کریمنل کیسز کا فیصلہ چھ سے آٹھ ماہ میں جبکہ سول کیسز میں تھوڑا وقت لگتا ہے مگر عدالت کی جانب کوئی دیر نہیں ہوتی۔’
سولیسیٹرزپر ایک یہ بھی الزام ہے کہ وہ منٹوں کے حساب سے اپنی فیس وصول کرتے ہیں۔ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ ’میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ ہم پوری محنت سے ایک کیس تیار کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنا کام مشکل اور دوسروں کا آسان لگتا ہے۔میرے خیال میں سولیسیٹر اپنی محنت کا درست معاوضہ لیتے ہیں۔ دوسرے میرا یہ ماننا ہے کہ آپ اگر کسی کا کوئی کام فری میں کریں گے تو پھر وہ آپ کی عزت نہیں کرے گا۔ بطور پروفیشنل آپ کو دوسروں کو اپنے وقت کی قدر کا احساس دلانا چاہیے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وکیل کی فیس زیادہ ہے تو وہ متعلقہ باڈی میں اس کو چیلنج کرسکتا ہے۔’
شاہد ہیومن رائٹس گروپس کےسرگرم ممبر ہونے کے ساتھ متحرک سیاسی کارکن بھی ہیں۔ ’ پیپلز پارٹی کو چھوڑنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میں مختلف پلیٹ فارم سے ہیومن رائٹس، چائلڈ اور بانڈیڈ لیبر کے خلاف آواز اٹھارہا تھا۔ شہید بینظیر بھٹو نے اس بات پر کھبی کوئی اعتراض نہیں کیا مگر پارٹی کے بعض چھوٹے ذہن کے لوگوں کو اعتراٰض تھا اور ان کا کہنا تھا کہ میں پارٹی کے پلیٹ فارم سے ان ایشو پر کام کروں، بس ہر وقت بلا وجہ کی روک ٹوک تھی۔ 1998 میں میری عمران خان سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے مجھے پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی۔میری شرط یہی تھی کہ میں پارٹی کے ہیومن رائٹس ونگ کے لیے کام کروں گا اور میرے کام میں کسی قسم کی مداخلت نہیں ہوگی۔ ’
تیس اکتوبر کو لاہور میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے جلسے کو 1986 کے بعد لاہور کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیتے ہوئے شاہد دستگیر خان نے کہا کہ عمران خان کی پالیسیاں مضبوط مگر درست سمت کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنا پیغام دیہاتوں میں آباد ملک کی ستر فیصد آبادی تک پہنچانا ہوگا۔ ابھی ان کے ساتھ شہروں میں رہنے والی تیس فیصد آبادی ہےمگر وہ محض ان کی بنیاد پر اپنی حکومت نہیں بنا سکتے۔ انہیں اگلے چھ ماہ میں سیاسی اور عوامی مزاج کو سمجھنے والے لوگوں کی ایسی ٹیم بنانی چاہیے کہ جو پارٹی پالیسی کو ملک کے کونے کونے تک پہنچائے۔ بدقسمتی سے ایسے لوگ عمران کے پاس نہیں مگر انہیں ایسے لوگ ڈھونڈنے ہوں گے۔ طاقت ور میڈیا سیل اور ہر جگہ پارٹی دفاتر کھلنے چاہیں۔ ’
شاہد کی اہلیہ زمباوے سے ہیں اور جوڑے کی چار بیٹیاں ہیں۔ بڑی بیٹی عائشہ ڈاکٹر، دوسری بیٹی عالیہ نے اکنامکس میں ڈگری کی ہے۔تیسری عمیرہ نے ناٹنگھم سے سائیکالوجی میں ڈگری مکمل کی ہے جبکہ سب سے چھوٹی بیٹی امینہ نےمیڈیکل کا پہلا سال مکمل کر لیا ہے۔’
شاہد اپنی جسمانی فٹنس کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں اور باقاعدگی سے جم جاتے ہیں اورکرکٹ کے بھی بڑے شوقین ہیں۔ ’ میں دوسروں سے یہی کہوں گا کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ہماری کمیونٹی میں لوگ اپنی طرف دھیان نہیں دیتے۔ ہر شعبے میں جائیں اور اپنی محنت سے مقام پیداکریں۔’
مزید پڑھیے
کشمیر پر بھارتی موقف چیلنج کرنے والوں پر دباؤ
مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف سے اختلاف رکھنے والوں بشمول برٹش ممبر پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
نیتین پیک کے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر
نیتن سنسارا سائپرس کے پیک فٹ بال کلب کے ساتھ معاہدے کرنے والے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر بن گئے ہیں۔
آلہ زیادہ کھانے والوں کوخبردار کرےگا
تحقیق کاروں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جو لوگوں کو مقررہ وقت میں خوراک کی زیادتی کے حوالے سے خبردار کرے گا۔
گھر میں پیڈی کور سے پاؤں خوبصورت بنائیے
گرمیوں میں خصوصا آپ کو کھلے جوتے یا سینڈل پہننی پڑتی ہیں ایسے میں اگر پاؤں صاف نہ ہوں تو شخصیت بہت برا تاثر چھوڑتی ہے۔































