امریکی کمانڈر کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا
بدھ, 09 نومبر 2011

افغانستان میں تعینات ایک اہم امریکی کمانڈر کو افغان رہنماؤں کے بارے میں تحقیر آمیز کلمات ادا کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
نیٹو کے کمانڈر میجر جنرل پیٹر فولر نے پولیٹیکو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان کی سیاسی قیادت کو ’حقیقت سے دور’ قرار دیا ہے۔
یہ واضح نہیں کہ آیا انہیں اپنے عہدے پر بحال کردیا جائے گا یا وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ افغانستان میں امریکی فورس کے سربراہ نے جنرل فلر کے اس کمنٹس کے بارے میں کہا کہ ان کے کلمات امریکہ اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی عکاسی نہیں کرتے۔ جنرل جان ایلن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بتاتے ہوئے کہا کہ افغان عوام انتہائی باعزت لوگ ہیں اور اس قسم کے جملے ہمیں افغانستان میں اپنے مشن سے باز نہیں رکھ سکتے جو کہ افغانستان کو ایک مستحکم ، خوشحال اور ترقی یافتہ بنانے کا ہے۔
واشنگٹن میں دورے کے دوران ایک انٹرویو میں جنرل فولر نے حامد کرزئی کے بارے میں کہا کہ وہ ایک غیر متاثر کن پبلک اسپیکر ہیں۔
صدارتی انتخابات کے دوران یہیں توقع تھی کہ کوئی مقبول شخص ہی اس عہدے پر آئے گا۔ ان کے بقول انہوں نے افغان جنرلز کو یہ بات سمجھانے کی بڑی کوشش کی کہ اپنے ملک میں معاشی بے یقینی کے باوجود امریکہ افغانستان میں یہ سب کام کررہا ہے۔
’کیا آپ سمجھتے ہیں کہ امریکہ میں سڑکوں سونے کی بنی ہیں اور سب لوگ ہالی وڈ میں رہتے ہیں۔ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کا ملک افغانستان میں سکیورٹی کے لیے کس قدر قربانیاں دے رہا ہے۔ جنرل نے نیٹو ٹرینگ مشن کو لوگوں کو مچھلی پکڑنے کی تربیت دینے سے مترادف قرار دیا۔
امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ہیلری کلنٹن نےاس معاملے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ افغان صدر کے بیان کو درست طریقے سے نہیں سمجھا گیا۔



























