بنگلہ دیش اور روس میں ایٹمی معاہدہ
بدھ, 09 نومبر 2011

بنگلہ دیش او روس ایک لینڈ مارک نیوکلئیر پلانٹ ڈیل انٹر گورنمنٹ ایگری منٹ پر دستخط کرکے دنیا کے تیس انتہائی طاقت ور جوہری طاقتوں کے کلب میں شامل ہوگیا ہے۔
بنگلہ دیش کے شمال مغرب حصے ایشاوردی کے سب ڈسٹرکٹ پبنا میں روس نیوکلئیر پلانٹ لگائے گا۔ دو ہزار میگا واٹ نیوکلیر پلانٹ کے دو یونٹس ہوں گے۔ اور ہر پلانٹ ایک ہزار میگا واٹ کی بجلی پیدا کرے گا۔ معاہدے میں منصوبے پر عمل درآمد کی دیگر تفصیلات درج نہیں کی گئی ہیں۔ یہ معاہدہ 2009 میں ایم او یو کی پیش رفت ہے جس میں دونوں ممالک نے جوہری پلانٹ لگانے کے منصوبے پر دستخط کیےتھے۔
انٹرنیشنل اٹامک انرجی نے 2007 میں بنگلہ دیش کو جوہری پلانٹ لگانے کے منصوبے کی منظوری دے رکھی ہے۔ یہ معاہدہ بنگلہ دیش میں توانائی کی ضروریات کو پوری کرنے کے لیے ہے تاہم فوری طور پر اس کو صنعتی مقاصد کے لیےاستعمال نہیں کیا جا سکےگا۔ ملک میں اسوقت چھ ہزار پانچ سو میگا واٹ کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت صرف پانچ ہزار میگا واٹ ہی بجلی پیدا کی جارہی ہے۔
رروس اس منصوبے میں فیول، نیوکلیئر ویسٹ ٹھکانے لگانے اور ڈی کمیشن کرنے میں مدد دے گا۔ تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے منصوبے پر دستحظ کرکے حکومت شاید نیوکلیئر سپلائرز جیسے امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے جو تیل کی قیمتوں پر کنٹرول کرتے ہیں۔ بعض نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس معاہدے کے تحت بنگلہ دیش کا روس پر انحصار بڑھ جائے گا ۔



























