سیاسی جماعتیں امن ڈیل پر متفق
بدھ, 09 نومبر 2011

نیپال میں اہم سیاسی جماعتوں نےایک سال کے تعطل کے بعد لینڈ مارک پیس ڈیل پر رضا مندی ظاہر کردی ہے ۔ اس ڈیل کے تحت انیس ہزار ماؤ جنگجوؤ ں کی قسمت کے فیصلے سے متعلق ہے۔
ان میں سے ایک تہائی کو سکیورٹی فورسز میں شامل کیا جائے گا جبکہ باقی تنخواہیں وصول کریں گے۔ ماؤ باغیوں نے پانچ سال قبل ہتھیار ڈال دیئے تھے تاہم امن کی کوششوں کے سبب ان افراد کے مستقبل اور ملک کے نئے آئین کی کوششوں میں تعطل پیدا ہوگیا تھا۔
نیپال کی چار بڑی سیاسی جماعتوں ماؤ ، نیپالی کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف نیپال اور مدیشی پیپلز رائٹس فورم کی جانب سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق سابق جنگجؤوں کی سکیورٹی فورسز میں شمولیت اور اس تنازعے کا نشانہ بنے والوں کو معاوضے دینے کا معاہدے طے پاگیا ہے۔ سکیورٹی فورس میں شمولیت اختیار نہ کرنے والے ماؤ باغیوں کو آٹھ لاکھ نیپالی روپے دیئے جائیں گے۔ اس معاہدے پر اہم ماؤ رہنما موہن بیدیا پہلے ہی اپنی نا پسندیدگی کا اظہا کرچکے ہیں۔
اس معاہدے کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے ذریعے امن عمل کے مشکل حصوں پر عمل درآمد اور ماؤ باغیوں کے زیراستعمال رہنے والے اسلحے کو ٹھکانے لگانے کے فیصلے پر عمل درآمد میں آسانی ہوگی ۔
ماؤ باغیوں نے دہائی طویل خانے جنگی ترک کرکے 2006 میں ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ اس طویل خانہ جنگی میں اٹھارہ ہزار افراد لقمہ اجل بنے اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔



























