A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

ہفتہ, 19 مئی, 2012 | 27 جمادة الثاني, 1433 ھجری
16°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

فٹ بالر سے کامیاب آئی ٹی بزنس مین شاہد عظیم

نمائندہ خصوصی, لندن
اتوار, 20 نومبر 2011

برطانیہ کے سوانتہائی بااثر مسلمان شخصیات کی فہرست میں شامل آر کوم آئی ٹی کے مینجنگ ڈائریکٹر شاہد عظیم  کی کہانی زرے سے آفتاب کی کہانی ہے۔ شاہد نے کسی اسکول سے باقاعدہ تعلیم  حاصل نہیں کی مگر اپنی محنت اور لگن کی بدولت وہ آج ملٹی ملین بزنس کے مالک ہیں۔ انہیں 2006 میں ایشین انٹرپنور آف دی ائیر کے علاوہ چینل فور کے ملینئر ز مشن کے ایوارڈز  بھی مل چکے ہیں۔ صاف گو اور بلاجھجھک اپنا موقف بیان کرنے والے شاہد سرے کاؤنٹی کےکامیاب بزنس مین ہونےکے ساتھ کھلے دل سے چیرٹیز کو سپورٹ کرتے ہیں۔ دس سال کی عمرمیں برطانیہ آنے والے شاہد  انگریزی زبان کا ایک لفظ نہیں جانتے تھے۔ فٹ بال کو کرئیر بنانے کی دھن میں مگن وہ برطانیہ کے پہلے ایشین فٹ بالر بنے تاہم ایک حادثے کے سبب وہ اپنے اس شوق کو مزید جاری نہ رکھ سکے اور آئی ٹی کے شعبے کی طرف چلے آئے۔  1998 میں اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی جسکے آج چھ ممالک میں دفاتر ہیں اور سالانہ  80 ملین پونڈ کا ٹرن اوور ہے۔

انہوں نے جس وقت کام شروع کیا  تو ایک برٹش مسلم  اور ایشین کی حیثیت سے برطانوی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانا اس قدر آسان نہیں تھا تاہم  شاہد کا کہنا ہے کہ’ اس وقت نسلی امتیاز اور بڑی سخت گلاسیلنگ تھی مگر  مشکلات سے گھبرانا بہادری نہیں تو میں نے بھی مختلف صورت حال کا سامنا کیا مگر ایک لگن کے ساتھ اپنے کام میں جتا رہا۔ ’

 
   

آج کل خصوصا یورو زون میں معاشی نظام  اتار چڑھاؤ کا شکار ہے ۔ یورپ کے رہنما اس بحران سے نکلنے کا کوئی مناسب حل نکالنے کی کوششوں میں ہیں۔ کیا اس بحران نے برطانوی مارکیٹ پر بھی کوئی اثر ڈالا ہے۔ ’برطانیہ بھی گلوبل مارکیٹ کے ساتھ ساتھ یورپی زون کا بھی ایک اہم ملک ہے چنانچہ تقریبا تمام بزنس پرمعاشی بحران کےواضح اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔  مجموعی طور پر شرح نمو اور بزنس کی پرفارمنس متاثر ہوئی ہے۔  دوسری طرف مالیاتی اداروں کی جانب سے بزنس کی سپورٹ میں کمی سے بھی کافی منفی اثر پڑا ہے۔ تاہم ہمارا بزنس ماڈل آئی ٹی سروس کی آؤٹ سورسنگ پر مبنی ہے جس کے سبب ہمارے کلائنٹس اپنے ذرائع اور وسائل کو بہتر انداز میں کنٹرول کرسکتے ہیں۔’

برطانیہ میں بہت کم وقت میں تیزی سے اپنی جگہ بنانے والے شاہد  کیا پاکستان میں بھی کیا اتنے ہی کامیاب بزنس مین ہوتے۔ ’میرا جواب نہیں میں ہے۔  اسکی وجہ کہ جب تک ہمیں وہاں کے مارکیٹ ٹرینڈ کا علم نہ ہو یا وہاں ہمارے کنکشنز نہ ہوں تب تک میرے خیال میں کامیابی مشکل ہے۔’

جنوبی ایشیائی ممالک کی حکومتوں پر عموما  کرپشن اوراقربا پروری کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور اہم عہدوں پر مخصوص کلاس کی اجارہ داری ہے جبکہ غریب یا  شاہد کی طرح تعلیم پوری نہ کرنے والا شاید اس قدر ترقی نہیں پا تا  جبکہ برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے بعض واجبی تعلیم یافتہ افراد آج  بزنس کے شعبوں میں نام کما چکے ہیں۔ ’میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ اس ملک میں مواقع زیادہ ہیں جو کہ یقینا پاکستان میں ہمیں نہیں ملتے۔ یہاں خود احتسابی اور اداروں کی جانب سے بزنس کو بڑھانے اور سیلف ایمپلائمنٹ کی بڑی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔’

تمام تر باتوں کے باوجود  یہاں آباد پاکستانی  کمیونٹی کا اپنے مادر وطن سے تعلق اسی قدر مضبوط ہے اور جو بھی مشکل پڑی کمیونٹی نے اپنے ہم وطنوں کی مدد  میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ’مجھے اپنے برٹش پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔  تاہم مجھے وہاں  کی معاشی اور سیاسی صورت حال پر شدید تشویش ہے۔ بدقسمتی سے میڈیا میں پاکستان پر دہشت گردی  اور ناکام ریاست کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں مگر میں یہی کہوں گا کہ مغرب کو اپنی پالیسیوں کو بھی دیکھنا چاہیے تاہم یہ ایشو بمباری یا قتل و غارت گری سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے سیاسی قیادت کو انگیج کرنا ہوگا۔ ’

   
 

پاکستانی کمیونٹی تمام تر ترقی کے باوجود تعلیمی میدان میں اس قدر ترقی نہیں کرسکی۔ ’اس کی وجہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے والدین اس ملک میں بطور امیگرنٹ آئے  اور ان کا یہی خیال کہ وہ چونکہ زیادہ عرصے یہاں نہیں رہیں گے توانہوں نے محنت کرکے کچھ پیسے جوڑنے کا سوچا اور تعلیم  کو اس طریقے سے اتنی اہمیت نہیں دی۔ دوسرا ایک اور ایشو بھی ہے کہ ہماری تیسری نسل جو یہیں پیدا ہوئی وہ میرِے خیال میں اپنی شناخت بھول چکی ہے۔ ان نوجوانوں کی رہنمائی کے لیے میرے خیال میں  اچھے رول ماڈلز سامنے آنے چاہیے۔’

شاہد  فٹ بال  بڑے شوق سے کھیلتے رہے ہیں۔ تاہم ایک حادثے میں ٹانگ ٹوٹنے کے بعد وہ اس شوق کو مزید جاری نہیں رکھ سکے جس کو وہ اپنی زندگی کی ایک بڑی ناکامی گردانتے ہیں۔ 

برطانیہ کے سوانتہائی بااثر مسلمان شخصیات کی فہرست میں شامل شاہد  اس اعزاز پر انکساری کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’ میرے خیال میں مجھ سے کہیں موثر مسلمان شخصیات اس وقت کمیونٹی میں ہیں مگر شاید و ہ میڈیا کی نظر سے اوجھل ہیں۔ تاہم اس انداز میں  آپ کی خدمات کا اعتراف کیا جانا نہ صرف میرے بلکہ پوری کمیونٹی کے لیے فخر کی بات ہے’۔

شاہد  کو برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی ترقی کے حوالے سےبعض تحفظات ہیں۔ ان کے مطابق  ’مذہب اور سیاست کے لبادے میں کچھ لوگ کمیونٹی کو کنٹرول کررہے ہیں جس کے سبب کمیونٹی اپنا حقیقی کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایک دوسرے سے کٹے رہنے کی بجائے  ایک ٹیم کے طور پر اپنا کردارادا کرنا ہوگا۔’

شاہد کہتے ہیں کہ ’اپنی ذات پر یقین ہی درحقیقت کامیابی کی شرط ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ جو کام بھی کریں پوری محنت اور لگن سے کریں۔’

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%

مزید پڑھیے

کشمیر پر بھارتی موقف چیلنج کرنے والوں پر دباؤ

مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف سے اختلاف رکھنے والوں بشمول برٹش ممبر پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نیتین پیک کے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر

نیتن سنسارا سائپرس کے پیک فٹ بال کلب کے ساتھ معاہدے کرنے والے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر بن گئے ہیں۔

آلہ زیادہ کھانے والوں کوخبردار کرےگا

تحقیق کاروں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جو لوگوں کو مقررہ وقت میں خوراک کی زیادتی کے حوالے سے خبردار کرے گا۔

گھر میں پیڈی کور سے پاؤں خوبصورت بنائیے

گرمیوں میں خصوصا آپ کو کھلے جوتے یا سینڈل پہننی پڑتی ہیں ایسے میں اگر پاؤں صاف نہ ہوں تو شخصیت بہت برا تاثر چھوڑتی ہے۔

 
Go To Top Go To Top