’پاکستان کے مستقبل کے لیے پرامید ہوں’
سوموار, 21 نومبر 2011

پاکستان یونین آف پاکستانی اسٹو ڈنٹس اینڈ المنائی کا قیام 2007 میں عمل میں آیا جس کا مقصد برطانیہ کی یونی ورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی کو ایک پلیٹ فارم پر لانا، طالب علموں کی سپورٹ اور ان کی ویلفیئر تھا۔ اپریل 2009 میں نو پاکستانی اسٹوڈنٹس کی گرفتاری کے موقع پر یونین کے نمائندوں نے موثر انداز میں برٹش میڈیا پراپنے کیس کولڑکر یہ ثابت کیا کہ ہر طالب علموں کو شک کی نظر سے دیکھنا غلط ہے۔ نپسا کو گزشتہ سال اندورنی سطح پر بعٰض مختلف نوعیت کے الزامات اور اختلافات سے بھی گزرنا پڑا مگر سابق صدر حسین علی، احمد خان یوسف زئی اور موجودہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بالاخر تنظیم کو ایک بار پھر منظم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ نو منتخب صدر احمد خان یوسف زئی مستقبل میں تنظیم کے طریقہ کار میں مزید بہتری لانے کے حوالے سے پرامید ہیں اور ایک ٹیم کے طور پر سب کو ساتھ لے کر چلنے کے قائل ہیں۔
نپسا کے قیام کی وجہ کو بیان کرتے ہوئے احمد نے کہا کہ ’ 2007ء میں امپیریل کالج کی طالب علم اور اپنے کالج کی پاکستان سوسائٹی کی صدر شازیہ ارشد کا برین چائلڈ ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہم طالب علموں کی یونٹی، سوشل نیٹ ورکنگ اور ڈائیلاگ سازی پر توجہ دیتے ہیں۔ ہمارا مقصد شعوری طور پر ان کی تربیت کرنا ہے۔ لیڈر شپ ڈولپمنٹ کے لیے اگلے سال کے اوائل میں آکسفورڈ میں ینگ لیڈرز کانفرنس ہورہی ہے جہاں برطانیہ بھرکی یونی ورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلباء سیاسی مسائل اور یوتھ ایمپاورمنٹ پر بات کریں گے۔’
کسی بھی پلیٹ فارم کے آغاز کے بعد درپیش چیلنجز سے نبر دآزما ہونے کے لیے ٹیم کو تیار کرنا اس سے کہیں مشکل ٹاسک ہے تاہم احمدکا کہنا تھا کہ ’یقینا راہ میں چیلنجز آتے ہیں مگر یہ بھی ہماری تربیت کا حصہ ہے جو یقینا عملی زندگی میں ہمارے کام آئے گا ۔ہم مختلف یونی ورسٹیز کی پاکستان سوسائٹیز کے درمیان ایک پل کا کام دیتے ہیں اور انہیں باہمی سرگرمیوں سے باخبر رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں نپسا کے لیے اسٹوڈنٹ ٹریننگ گراونڈ کی درست اصطلاح ہوگی۔ ’
تنظیم کے قیام کے تقریبا پانچ سال گزرنے کے بعد ممبران کی تعداد بڑھی ہے اور دائرہ کار برطانیہ سے نکل کر پاکستان اور کینیڈا تک جا پہنچا ہے۔ اس بارے میں احمد کہتے ہیں کہ ’ا س وقت برطانیہ کی 45 ، پاکستان کی 28 اور کینیڈا کی آٹھ یونی ورسٹیوں نےہمارے ساتھ الحاق کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں ہم 25 ہزار سے زائد پاکستانی طالب علموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔’
اورسیز اسٹوڈنٹس برطانوی معشیت کے لیے ایک بڑا سہارا ہیں جن میں تیس ہزار سے زائد پاکستانی طالب علم میں شامل ہیں۔اس سوال پر احمد نے بتایا کہ ’ایک طالب علم سالانہ تقریبا نو ہزار پونڈ فیس کے علاوہ کھانے پینے اور رہائش پر کل ملا کر بیس ہزار پونڈکے قریب خرچ کرتا ہے۔ یہ تو صرف یونی ورسٹی طالب علموں کی بات ہے جبکہ کالجز میں زیرتعلیم طالب علم اس کے علاوہ ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہہ لیں کہ برطانوی معیشت اورسیز اسٹوڈنٹس پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہے۔ ’
اس سوال پر کہ طالب علموں کو یہاں آنے کے بعد کلچر اور رہن سہن کے حوالے سے کس قسم کی مسائل سے گزرنا پڑتا ہے، احمد نے بتایا کہ ’کلچرل شاک تو شاید اتنا زیادہ نہیں ہوتا کیونکہ ہم سب یقینا اچھے ماحول اور پاکستان کے ٹاپ اسکولز سے یہاں آئے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمار ے پرایئوٹ اسکولز میں پڑھائی کا معیار اور طالب علموں کی گر یڈ اسکورنگ یہاں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ تاہم یہاں آنے والے طالب علم شاید حقیقت پسندنہیں۔ وہ اس سوچ کےساتھ یہاں آتے ہیں کہ بس آتے ہی انہیں با آسانی جاب مل جائےگی اور وہ پڑھائی بھی کر لیں گے مگر عموما ایسا نہیں ہوتا۔ یہاں طالب علموں کا سب سے بڑی دشمن تنہائی ہے۔ اس وقت نپسا کا کرداراور اہم ہوجاتا ہے کیونکہ ہم سب ایک فیملی کا حصہ ہیں۔ ویزوں کے حصول میں تاخیر بھی ایک ایشو ہے جسکی وجہ سے بعض کیسوں میں تعلیمی سال میں وقفہ آجاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں بےچارہ طالب علم ویزے کے حصول کے لیےصرف چکر ہی کاٹا ہی رہ جاتا ہے۔ ہم اپنے طور پر کسی حد تک اس ایشو کا حل تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اگر ہمیں اسٹوڈنٹس کی سپورٹ ملی تو یقینا زیادہ موثر قدم اٹھائیں گے۔ بوگس کالجز کے کیسز نپسا کے پاس تو نہیں آتے مگر میرے مشاہدے کےمطابق بعض کیسوں میں بوگس کالج کا شکاربننے والے طالب علم اپنے گھروں اور پراپرٹی پرقرض لے کر یہاں پڑھنے کے لیے آئے ہیں۔ میرے نزدیک ایجنٹس اس صورت حال کے زیادہ ذمہ دار ہیں جو ان کالج اسٹوڈنٹس کو جاب کا لالچ دے کر کسی بوگس کالج میں داخلہ دلا کر یہاں بھیج دیتےہیں جبکہ طالب علموں کو یہاں آکر علم ہوتا ہے کہ صورت حال تو بالکل ہی الٹ ہے۔میری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں جو طالب علموں کو ویزوں یا دیگر امور پر رہنمائی فراہم کرتا ہو۔تاہم طالب علم انٹرنیٹ پر مختلف یونی ورسیٹیوں اور کالجز کی رینکنگ کے بارے میں با آسانی معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔’
نپسا کے ورکنگ پیرٹن کے حوالے سے احمد نے بتایا کہ ’سال بعد الیکشن ہوتے ہیں۔ تمام پاکستان سوسائٹیز اور اپنے ممبران کو ای میلز بھیجنے کے علاوہ فیس بک پر نئے انتخابات کےانعقاد کا باقاعدہ اعلان کیاجاتا ہے۔ انتخابات کےذریعے تنظیمی عہدیداران اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کا انتخاب عمل میں لایا جاتا ہے’۔
مختلف ایشوز پر اختلاف اگر اصلاح کے لیے ہو تو سود مند ثابت ہوتا ہے تاہم اگر یہی اختلاف ذاتیات کے لیے کیا جائے تو اکثر صورتوں میں تنظیموں کے زوال یا دھڑے بندوں کا سبب بنتا ہے۔ماضی میں نسپا میں مختلف ایشو پر واضح دھڑے بندیاں سامنے آئیں تاہم احمد اس بات کی مکمل تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ اس قسم کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں۔ ماضی میں اگر ایسی کوئی بات ہوئی بھی ہے تو انہیں اس کا علم نہیں۔ ان کی کمیٹی متحد ہے اور جہاں تک دیگر الزامات کا تعلق ہے تو ہم نے ایک ایک پائی کا حساب بمعہ رسیدوں اور دیگر تمام دستاویزات کے آن لائن کردیا ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ آن لائن دیکھ سکتا ہے۔ یہاں میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ اگر اختلاف کی بات ہوتی تو پہلے 28 یونی ورسیٹیزکی پاکستان سوسائٹیٹز نپسا کے ساتھ تھیں مگر اب ان کی تعداد 45 پر پہنچ گئی ہے۔ ہمارے درمیان ایشوز پر بالکل اختلاف ہوتا ہے مگر ہم انہیں بات چیت سے حل کرتے ہیں۔’
مستقبل میں اس قسم کی صورت حال سے بچنے کےلیے کمیٹی کے لائحہ عمل کے سوال پر احمد نے کہا کہ ایک تاثر یہ بھی ہے کہ نپسا شاید کوئی ملٹی نیشنل آرگنائزیشن ہے جس کے پاس بہت سے فنڈز اور گلیمر ہے، جو بالکل درست نہیں۔ ہم مستقبل میں اپنے اکاؤنٹس آن لائن کردیں گے تاکہ جو چاہے دیکھ سکے۔ اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کرسکتے کیونکہ ہم سب یہاں فل ٹائم اسٹوڈنٹ ہیں۔تعلیم ہی ہماری پہلی ترجیح ہے۔ہمارے والدین لاکھوں روپے اس لیے خرچ نہیں کررہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ کرصرف نپسا چلائیں۔’
پاکستانی سوسائٹی کے ینگ ممبر کے طور پر ملکی سیاست اور معاشی پالیسیوں کے بارے احمد کے تاثرات تھے کہ’ پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا تھا اور جب تک دنیا ہے پاکستان بھی باقی رہے گا، ان شااللہ۔ یہ بات صرف وہ نہیں بلکہ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کہتے ہیں۔ مشرف کے دور میں قرض لے کر ملک کی معیشت تو بہتر کرلی گئ مگر جب قرضے واپس کرنے کا وقت آیا تو سچ سامنے آگیا۔ پچھلی حکومت نے کریڈٹ پر پیسے لیے جس کا خمیازہ اس حکومت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اصل میں عوام بھگت رہے ہیں۔غربت اب مڈل کلاس تک آن پہنچی ہے۔ میں یہاں یہ کہوں گا کہ زلزلہ، سیلاب اور مشکل معاشی حالات کے باوجود جس قدر حوصلہ میں نے اپنے لوگوں میں دیکھا ہے وہ واقعی ایک معجزہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت ڈکٹیٹر شپ سے لاکھ درجہ بہتر ہے مگر ہمارے ملک میں بدقسمتی سے جمہوریت کو چلنے نہیں دیا گیا۔ ’
کرپشن کے خاتمے ، ملک کی معاشی اور سیاسی صورت حال کو بہتر بنانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’یہاں تعلیم حاصل کرنے والوں میں سے کل کوئی سیاست دان تو کوئی بیروکریٹ بنے گا، میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان میں ایک دفعہ شعور آگیا تو یقنا وہ باد مخالف کا بھی سامنا کرسکیں گے۔ جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے تو اس میں ملک کی اٹھارہ کی اٹھارہ کروڑ عوام ملوث ہےکیونکہ جہاں جس کی طاقت چلتی ہے وہ کرپشن کرتا ہے اور پھر ہم محفلوں میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں۔جب تک ہر پاکستانی کے اندر کا انسان نہیں جاگے گا اس وقت تک ہم لعنت سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرسکتے۔ ’
پاکستان میں اگر قانون کی پاسداری ہو تو اس جیسا ملک دنیا میں کوئی نہیں مگر افسوس کہ کوئی سنجیدگی سے عمل کرنا نہیں چاہتا۔ اس بارے میں وہ یوں بولے کہ’میں یہاں قانون پڑھ رہا ہوں ۔ پاکستان میں سارے قانون ہیں مگر سوال وہی ہے کہ جس دن لاء آف دی بک پر عمل ہونا شروع ہوجائے گا تو اسی وقت تبدیلی آئے گی۔ ہمیں انفرادی طور پر اس پر عمل درآمد کرنا پڑے گا۔’
ملک کے قبائلی علاقوں میں اس وقت صورت حال خاصی تشویش ناک ہے اور کئی عرصے سے آرمی آپریشن جاری ہے ۔’آرمی وہاں مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے کیونکہ وہ حکومت کی رٹ کوچیلنج کررہے ہیں اور جہاں حکومت کی رٹ چیلنج کیا جائے گا تو حکومت کو جوابی کارروائی کرنے کا اختیار اور حق ہے۔ تاہم میں یہاں یہ کہوں گا کہ بلوچستان کے لوگ امن پسند اور محبت کرنے والے لوگ ہیں۔ بعض بیرونی عناصر انہیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج کو کارروائی کرکے ان کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ ’
پاکستانی طلباء میں انتہا پسندی کے رحجانات کے فروغ کے بھی بسا اوقات الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ’میرے خیال میں فار رائٹ اور فار لیفٹ دونوں گروپس میں انتہا پسند طبقہ موجود ہے مگر ہم تعلیم کے ذریعے اس لعنت کو ختم کرسکتے ہیں۔ فوجی بجٹ تیس ارب جبکہ تعلیم پر صرف دو ارب روپے خرچ کرنا انصاف نہیں۔ میرے خیال میں حکومت کو ایجوکیشن بجٹ بڑھانا چاہیے کیونکہ تعلیم سے ہی لوگوں میں شعور آئے گا۔ ’
نپسا کو آگے لے کر جانے کے حوالے سے احمد کے ذہن میں کئی منصوبے ہیں جن کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم تنظیم نو کے تحت نئے معیار تشکیل دینا چاہتے ہیں تاکہ بعد میں آنے والے اس لیگیسی کو نئے آئیڈیاز کے ساتھ آگے لے کرچلیں۔ ہمارا زوراس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیاد برٹش پاکستانی اسٹوڈنٹس اس پلیٹ فارم کا حصہ بنیں۔ ’
مزید پڑھیے
گرمیوں میں خود کو اسمارٹ رکھیں
معمولی بیوٹی ٹپس کی مدد سے آپ اپنی خوبصورتی کو ساراسال برقرار رکھ سکتی ہیں تاہم اس کے لیے چہرے پرتوجہ کی ضرورت ہے۔
فسادات: ’واضح حکومتی حکمت عملی کی ضرورت’
لوکل کمیونٹی اور پولیس کے باہمی اعتماد میں تسلسل کے لیے لوگوں کے جائز سوالات کا جواب دینا ہوگا۔
شمی کپور کی فلمی زندگی پر ایک نظر
کریئر کی ابتدا میں ناکامی کا منہ دیکھنے والے شمی کو بالوں کی لٹ اور ڈانس نے بالاحر راتوں رات بالی وڈ سپر سٹار بنادیا۔
ہربل کاسمیٹکس کی دنیا کی بے تاج ملکہ شہناز حسین
آیوویدک کئیر اور کیور کو دنیا بھر میں متعارف کروانے والی شہناز کی ہربل مصنوعات کو آج ایک گلوبل برینڈ کی حیثیت حاصل ہے۔































