سلمان اور عامر کی اپیلیں مسترد، سزا برقرار
جمعرات, 24 نومبر 2011

لندن کی کورٹ آف اپیل نے سزا یافتہ پاکستانی کرکٹر ز سلمان بٹ اور محمد عامر کی جانب سے اپنی سزاؤں کے خلاف دائر کردہ اپیلیں خارج کرتے ہوئے ان کی سزائیں برقرار رکھی ہیں۔
اسپاٹ فکسنگ کے مقدمہ کی سماعت کرنے والی کراؤن کورٹ نے تین نومبر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان 27 سالہ سلمان بٹ کو ڈھائی سال اور بالرمحمد عامر کو چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی جبکہ اسی کیس میں بالر محمد آصف کو ایک سال اور کرکٹ ایجنٹ مظہر مجید کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اس مقدمے میں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے سپورٹس ایجنٹ مظہر مجید کے کہنے پر چھبیس اور ستائیس اگست سنہ دو ہزار دس کو لارڈز ٹیسٹ کے دوران پہلے سے طے شدہ وقت پر نو بالز کروائیں تھیں۔
اس کے لیے ایجنٹ مظہر مجید نے محمد آصف کو پینسٹھ ہزار، سلمان بٹ کو ایک لاکھ اور محمد عامر کو ڈھائی ہزار برطانوی پونڈ کی رقم ادا کی تھی۔
عدالت نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور بالر محمد آصف کو دھوکہ دہی اور بدعنوانی کا قصوروار ٹھہرایا تھا۔
مقدمے کے دو دیگر ملزمان محمد عامر اور ایجنٹ مظہر مجید نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا تھا۔ محمد عامر نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ صرف ایک میچ میں فکسنگ کے مرتکب ہوئے تھے۔
کورٹ آف اپیل نے ان کا کیس خارج کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کیس میں اب مزید بحث کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔محمد عامر کو سنائی گئی چھ ماہ قید کی سزا پر تبصرہ کرتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ دنیائے کرکٹ کو انتہائی نوجوان ٹیلنٹ سے محروم ہونا پڑا۔ مگر ان کے کم عمر ہونے کی وجہ سے ان سے نرمی نہیں برتی جائے گی۔
مزید پڑھیے
شاہ رخ خان کی حراست پر امریکی حکام کی معذرت
امریکی حکام نے بالی وڈ ایکٹر شاہ رخ خان کے نیویارک کے ہوائی پر تحویل میں لیے جانے کے واقعے پر معافی مانگ لی ہے۔
’کم کھائیں مگر اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں’
برنٹ مئیر کونسلر اسلم چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں سوسائٹی میں ادغام کے لیے سیاست اور سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہوگا۔
نئے فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والی فلمیں
بالی وڈ فیشن ہر دور میں مقبول رہا ہے۔فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کے انداز اور ملبوسات ہماری خواتین کی اکثریت کاپی کرتی ہے۔
احمد مختار کس ملک کے وزیر دفاع ہیں؟
حکومت’ فوج ’ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہشات کو ٹھکراتے ہوئے چوہدری احمد مختار نے ناٹو کی رسد کی بحالی کے لیے یہ دلیل پیش کی ہے کہ رسد پر پابندی بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔































