برطانیہ کے پہلے مسلمان کیو سی صبغت اللہ قادری
بدھ, 28 دسمبر 2011

برطانیہ کے پہلے مسلمان کیو سی صبغت اللہ قادری امیگریشن اور ریس ریلیشن کے حوالے سے اتھارٹی مانے جاتے ہیں۔ نوعمری سے ہی جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے قادری 23 اپریل 1937 کو بدایوں، انڈیا میں پیدا ہوئے۔ ’میرے والد فراست اللہ قادری ایک مذہبی اسکالر تھے۔ میں بارہ تیرہ سال کا تھا کہ والدین کے ساتھ 1950 میں پاکستان آگیا۔ ہم چھ بھائی اور دو بہنیں تھے جن میں سے ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال ہوگیا ہے۔ پنجاب سے میٹرک کا امتحان پاس کرلیا۔ والدین کی خواہش سائنسدان بنانے کی تھی تو ایس ایم کالج میں داخلہ لے لیا۔ انٹرمیڈیٹ میں تھا کہ سیاست سے دلچسپی ہو گئی۔ ہائی اسکول اسٹوڈنٹ فیڈریشن جوائن کرلی۔ بعد ازاں نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن بنائی تو اس میں شامل ہو گیا۔ 1956 میں کراچی یونی ورسٹی میں کیمسٹری اور حساب پڑھنے کے لیے داخلہ لیا مگر اس کے ساتھ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف آواز بھی بلند کی ۔کراچی یونی ورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا۔ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیے گئے اور بغیرکسی ٹرائل کے سات ماہ قید میں رکھا گیا۔ جیل سے نکلتے ہیں میں نے اس حبس بے جا کے خلاف پیٹیشن لکھی۔ دوسرے الفاظ میں کہہ لیں کہ پہلا کیس اپنا ہی تیار کیا۔ 1959 میں مجھے کراچی بدر کردیا گیا تو میں حیدرآباد میں محمد علی کی فیملی کے ساتھ رہنے لگا جو بعد میں فلمی دنیا کا ایک روشن تارا بنے۔ یونی ورسٹی میں طلباء کے احتجاج کے سبب حیدرآباد میں بھی بی ایس سی کا امتحان نہیں دے سکا۔’
پاکستان میں رہ کر اس وقت کے مارشل لاء ڈکٹیٹر ایوب خان کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے والے صبغت لندن آنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ میرے بڑے بھائی بار پڑھنے کے لیے ہم سے پہلے لندن آچکے تھے اور وہ مجھے بھی بلوانا چاہتے تھے مگر میں نہیں آنا چاہتا تھا تاہم اسی دوران بڑی بہن کے گھر آگ لگ گئی اور وہ جھلس گئیں جس کے بعد پہلے بہن بہنوئی اور بعد میں ہمارا پورا گھر 1960 میں لندن آگیا۔ میں یہاں آیا تو میری عمر کوئی تیئس سال ہوگی۔ شروع میں یہاں ایک فرم میں کلر ک کی ملازمت مل گئی۔ اس زمانے میں دس پونڈ ملا کرتے تھے۔ میرے بڑے بھائی نہیں چاہتے تھے کہ میں بار کروں۔ اے اور او لیولز میں نے پاس نہیں کیے تھے تو یونی ورسٹی میں مجھے داخلہ نہیں ملا۔ اس زمانے میں بیرسٹر کی تعلیم پرائیوٹ ہوتی تھی اور چونکہ میرے پاس کوئی اور ڈگری تھی نہیں تو بار کرنے کے سواء اور کوئی چارہ نہ تھا۔ خیر میں نے انر ٹیمپل میں اپلائی کیا اور انہیں اپنے بارے میں تفصیل سے بتایاجس پر انہوں نے خصوصی گراؤنڈز پر مجھے بار میں داخلے کی اجازت دے دی۔ 1962 یہاں پاکستانی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو دوبارہ بحال کروایا اور میں اس کا پہلا جنرل سیکرٹری بنا۔ بنگالیوں کے ساتھ مل کر ایوب خان مارشل لاء اور پاکستان میں جمہوریت کے لیے جدوجہد شروع کردی۔ ایوب خان کے برطانیہ کے دورے کے دوران خوب مظاہرے کیے اور ہائی کمیشن کی عمارت پر قبضہ کرلیا’۔
صبغت اللہ قادری نے پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیرپرسن بینظیر بھٹو کی جدوجہد کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور وہ بینظیر کی جلاوطنی ختم کرکے پاکستان جانے کے سفر میں بھی ان کے ساتھ رہے۔’ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو سے میرے تعلق کی نوعیت کا بینظیر کوعلم تھا۔ مرتضی سے بھی میرے بڑے اچھے تعلقات تھے۔ بینظیر سے اختلاف کی صرف ایک وجہ اور وہ مرتضی سے دوستی تھی۔ بینظیرکا مزاج کسی حد تک جاگیردارانہ تھا جبکہ مرتضی کے مزاج میں ایسا کوئی عنصر نہیں تھا۔ مجھے افسوس ہے کہ جن لوگوں نے بھٹو کی پھانسی پر مٹھائیاں بانٹیں وہ آج زرداری حکومت کا اہم حصہ ہیں۔’
پاکستان کی سیاسی زندگی کے اتار چڑھاؤ اور جمہوریت کے عدم استحکام کی وجہ وہ آرمی، جاگیردار اور ملاء ٹرائیکا کوٹھہراتے ہیں۔ ’بھٹو کو صرف ضیاءالحق نے پھانسی نہیں دی بلکہ ایک سسٹم نے پھانسی دی۔ وہ سسٹم جو روٹی، کپڑا اور مکان کی بات سننا نہیں چاہتا۔ 1950 سے ملا، آرمی اورجاگیردار کا یہ ٹرائیکا پاکستان کو چلا رہا ہے۔ بینظیر جب اقتدار میں آئیں تو اسی ٹرائیکا کے مفادات کو خطرہ تھا اور انہیں بیرونی سامراج سپورٹ کررہا تھا۔ بینظر نے اقتدار میں آنےکے بعد فوج سے سمجھوتہ کیا اور حلف اٹھانے کے بعد ایک منتخب وزارعظم سب سے پہلے آرمی چیف کے گھر گئیں مگر اٹھارہ ماہ بعد ان کی حکومت کو برطرف کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی کے موجودہ شریک چیئرمین زرداری سوشلسٹ نہیں اور نہ وہ کھبی پیپلز پارٹی کا حصہ رہے مگر اس کے باوجود اسٹبلشمنٹ آج بھی پیپلز پارٹی کو پسند نہیں کرتی۔ بینظر نے این آر او بھی سائن کیا اور گارنٹیاں بھی دیں کہ مشرف صدر رہیں گے مگر وقت نے ثابت کیا کہ بینظر کو بے وقوف بنایا گیا تھا ۔ بینٌظیر کو بھی جلد اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا۔ کراچی پہنچ کر جب ان پر حملہ ہوا تو انہیں احساس ہوگیا تھا کہ انہیں ٹریپ کیا گیا ہے۔ امریکہ اور فوج نے ان سے دھوکہ کیا ہے۔ این آر او کے ذریعے یہی لوگ آج زرداری کو ایکسپلائٹ کررہے ہیں۔ ’
پاکستان کی موجودہ سیاسی و معاشی صورت حال اور پے در پے اسکینڈلز کو انہوں نے حکومت کی ناکامی اور عوام میں غیرمقبولیت کو قرار دیا۔ ’یہ سارے اسکینڈل اسی طرح سامنے آتے رہیں گے کیونکہ عوام اس حکومت کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہ حکومت این آر او کی غلام ہے۔ این آر او نے قانون کی بالادستی کو ختم کیا۔ یہی این آر او گروپ سپریم کورٹ کو اختیار نہیں دینا چاہتا اور ڈوگر کورٹ کو پسند کرتا ہے تو پھر تو اسکینڈل آئیں گے۔ ساڑھے تین سال میں اس حکومت نے کوئی ایک کام بھی ایسا نہیں کیا جو بینظیر کرتیں بلکہ ان کے قاتلوں تک کو نہیں پکڑا۔ یہ حکومت جمہوریت نہیں بلکہ اپنی کرسی بچا رہی ہے۔ جیسے ہی خطرہ ہوتا ہے کہ صدارتی استثنی ختم ہوجائے گا توصدر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ آج پیپلز پارٹی صرف نام کی پارٹی رہ گئی ہے۔ بینظیر کے تمام قریبی ساتھیوں کو ایک ایک کرکے کارنر یا نکال دیا گیا ہے۔ بھٹو کا مقدمہ سیاست کے لیےکھولا گیا ہے۔ اگر قاتلوں پکڑنا ہے تو ینظیر بھٹو اور مرتٰضی کے قاتلوں کو پکڑیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھٹو کا قتل عدالتی قتل تھا۔ بھٹو کا اصل وارث ان کا پوتا اور پوتی ہیں جنہیں بدقسمتی سے آج کوئی نہیں پوچھ رہا اور جو انتہائی خوف زدہ ہیں۔حسین حقانی کی کیا کولیفیکیشن تھی کہ انہیں سفیر بنایا گیا۔ محض دوستیاں نبھائی جارہی ہیں۔ ان کا باس فارن آفس نہیں بلکہ زرداری ہاؤس تھا۔ وہ آج بھی ایوان صدرمیں سرکاری مہمان بن کر ٹھہرے ہوئے ہیں۔ تاہم واجد شمس الحسن اور حقانی میں فرق ہے۔ واجد کبھی غلط بیانی سے کام نہیں لیں گے۔ وہ من گھڑت یاایسی کوئی بات نہیں کہہ سکتے کہ جس کی انہیں ہدایات نہ ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اتنا بڑا ایکشن ایسے کیسے لے سکتا ہے’۔
پاکستان کو موجودہ سیاسی انکارکی سے باہر نکالنے کےلیے وہ قانون کی بالادستی اور عدالتی فیصلوں کے احترام کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ ’اس وقت سب سے اہم اور بنیادی بات قانون کی بالادستی ہے۔ اوپن پالیکٹس ہونی چاہیے۔ اب عمران خان آرہے ہیں جن سے لوگوں کو امیدیں ہیں۔ آج پاکستانی قوم کرپشن، مہنگائی اور غیر قانونیت سے تنگ چکی ہے۔ بھٹو بھی اچانک ہی نکل کے آئے تھے۔ ہوسکتا ہے قوم ان کا ساتھ دے جس طرح بھٹو لوگوں کی نبص پہچان کر بات کرتے تھے وہی بات آج عمران خان کررہے ہیں۔ممکن ہے کہ پاکستان میں جمہوریت لانے اور آزاد فارن پالیسی کی تشکیل کا یہی واحد راستہ ہو۔ دوسری اہم بات یہ کہ جب تک سیاسی جماعتوں میں سےفیوڈل مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہوگا کہ کسی پارٹی کا قائد کسی وصیت کی بنیاد پر اس کےبیٹا یا کسی کا بھائی یابیٹی کوچننے کی بجائے عوام منتخب کریں۔’
پاکستان میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرنے والے صبغت اللہ قادری نے برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خاتمے اور عدم مساوات کے محاذ کو بھی خالی نہیں چھوڑا اور مختلف پیلٹ فارم سے ایتھنک کمیونٹی کو ان کے حقوق دلانے کی جدوجہد جاری رکھی جس کے ثمرات سے آج ایشین کمیونٹی مستفید ہورہی ہے۔’ 65 میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران لیبرپارٹی الیکشن جیت گئی۔ اس وقت یہاں نسلی امتیاز بہت زیادہ تھا کہ کوئی کالے کو مکان کرائے پر نہیں دیتا تھا اور انہیں جابز بھی نہیں ملتی تھیں۔ لیبر پارٹی نے پھر اس دور میں نسلی امتیاز کے خلاف قانون بنانے کی کوشش کی اور اسی دوران مشاورت کے لیے ایک وائٹ پیپر شائع کیا۔ نسلی امتیاز کے خلاف قانون سازی سے متعلق بات کرنے کے لیے اپنی تنظیم ایفرو ایشین اینڈ کریبین لائرز کی جانب سے بی بی سی اردو سروس کی دعوت پر میں نےان کے ایک پروگرام میں شرکت کی۔ انہیں میری آواز اتنی پسند آئی کہ انہوں نے مجھے وہاں کام کی پیشکش کی۔ میں وہاں او سی یا آوٹ سائڈ کنٹری بیوٹر کے طور پر کام کرنے لگا اور بعدازاں برمنگھم میں بی بی سی ایشین ریڈیو سے بھی منسلک ہوگیا۔ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے کےلیے ہم نے اسکوپ کے نام سے تنظیم بنا لی جس میں چھوٹی بڑی سو تنظیمیں شامل تھیں۔ ایشین ایکشن بنائی جس کا میں کنوینر تھا اور وزیراعظم سے ملے اور انہیں اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ 1969 میں انرٹیمپل میں ایک مظاہرے میں تقریر کرنے پر بی بی سی نےمجھے پابندی لگا دی۔ تاہم میں نے کسی نہ کسی طرح اس سال بار کا فائنل امتحان پاس کیا اور بیرسٹربن گیا’۔
وہ یہاں سے پاکستان میں جمہوریت کے قیام کے لیے جدوجہد اور مارشل لاء کے خلاف بھرپور طریقے سےآوازاٹھاتے رہے مگر پاکستان جا کر عملی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ ’بینظیر نے بھی مجھ سے پاکستان آنے کو کہا تھا مگر اصل مسئلہ یہ تھا کہ ایک تو میرا وہاں کوئی قریبی رشتہ دار نہیں تھا۔ بہن اور بھائی سب یہی تھے۔ ذوالفقارعلی بھٹو نے جب مجھ سے پاکستان آنے کو کہا تو میں نے انہیں یہی جواب دیا تھا کہ بھٹو صاحب میرے پاس نہ زمین ہے اور نہ گاڑیاں۔ میں نے اس زمانے میں نئی نئی بیرسٹری پاس کی تھی اور میری خواہش یہی تھی کہ یہاں کامیابی سے پریکٹس شروع کردوں۔ میں چاہتا تو یہاں ایم پی بن جاتا مگر میں پاکستان کی سیاست میں کسی نہ کسی طرح شامل رہا۔’
برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والے صبغت اللہ قادری خود عملی زندگی میں اس کا کسی حدتک نشانہ بنے۔ ’ پہلے یہاں کا قانون تھا کہ باہر سے آنے والا کوئی بیرسٹر چاروں ٹیمپلز میں سے کسی میں پریکٹس نہیں کرسکتا تھا بلکہ کوئی ایشین بیرسٹر تھا ہی نہیں۔ کیوسی بھی انگریز ہی ہوتے تھے۔بار کا امتحان پاس کرنے کے بعد کسی کالے یا ایشین کو پیپل ایج نہیں ملتی تھی اور اگر مل بھی جائے تو چیمبر آپ کو جگہ نہیں دیتا تھا۔ پہلے بیرسٹر صرف ٹیمپل کے اندر قائم چیمبرز میں ہی پریکٹس کرسکتے تھے۔ اب تو لوگوں نے سڑکوں پر اپنی پریکٹس کھول رکھی ہیں۔ گور وں کےسو سال پرانے چیمبرز تھے یعنی پشت درپشت سےچلے آرہے تھے ۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی کے طالب علموں کے لیے ٹیوٹوریل تھی مگر باقی طالب علموں کے لیے نہیں تھی۔ ایجوکیشن میں مساوات نہیں بلکہ امتیاز تھا۔ ہم نے یہاں انر ٹیمپل میں تمام طالب علموں سے مساوات برتنے کے لیے بھرپور مہم چلائی اور ہم نے اسی سلسلے میں ایک مظاہرے کے دوران انر ٹیمپل ہال پر قبضہ کر لیاجس پر بڑا ہنگامہ ہوا مگر ہمارے کچھ مطالبات تسلیم کیے گئے جس میں ایک یونین کا قیام تھا۔ پہلی مرتبہ انر ٹیمپل اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن بنی جس کا میں پہلا صدر منتخب ہوا اور میں نے اب کے لارڈ جسٹس جان لاز کو شکست دی۔ اگرچہ میرے بھائی کا چیمبر تھا مگر چونکہ اس میں سب کے سب ایشین تھے اور کوئی کالا یا سفید فام نہیں تھا تو میں نےکہا کہ مجھے اس چیمبر میں کا م نہیں کرنا اور دیگر چیمبرز میں اپلائی کیا مگر کسی نے مجھے نہیں رکھا۔ بعد میں بھائی کے پاس پیپل ایج کرنے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ بالاخر 1971 میں لارڈ گیفررڈ کے چیمبر میں پیپل ایج مل گئی مگر پھر چیمبر میں کام کا سوال آن کھڑا ہوا تو میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنا چیمبر کھولوں گا۔ مجھے انر ٹیمپل والوں نے یہ سوچ کر نمبر الیون میں چیمبر کھولنے کی اجازت دے دی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ چیمبر جلد بند ہوجائے گا۔ میں نےسات افراد کے ساتھ مل کر ملٹی ریشل چیمبر کھولا۔ یہاں بھی میں نے تاریخ بنائی کہ میں پہلا بیرسٹر ہوں کہ جس نے محض پیپل ایج کے فوررا بعد ہی اپنا چیمبر کھولا۔ میں نے 1969 میں بار کا امتحان پاس کیا اور مارچ 1973 میں اپنا ذاتی چیمبر کھول لیا یعنی ایک جونئیر شخص ایک چیمبر کا ہیڈ بن گیا۔ یہاں پھر بتدریج مختلف امتیازی قوانین کے خلاف آواز بلند کی جس کے نتیجے میں ریس ریلیشن کمیٹی بنی اور بہت سی تبدیلیاں آئیں۔1979 میں کامن ویلتھ لائرز ایسوسی ایشن بنائی جس کا نام 1983 میں بلیک لائرز ایسوسی ایشن ہوگیا۔ میں اس کا پہلا چیئر مین اور بیرسٹر روڈی نارائن جنرل سیکریٹری بنا۔ اس پلیٹ فارم سے ایتھنک مینارٹیز کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف جدوجہد شروع کی’۔
ترقی پذیر جمہوری معاشرے کی مضبوطی کی وجہ یہاں کا شفاف نظام ہے کہ جسمیں کوئی بھی اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پرآگے جا سکتا ہے۔ ’لوگوں کو پارلیمنٹ یا ہاؤس آف لارڈز میں اپنے رائٹس یا اہلیت کی بنیاد پر ہی سیٹ ملتی ہے کسی کی خوشامد یا چاپلوسی سے نہیں۔ پاکستان میں بدقسمتی سے کوٹہ سسٹم ہے جبکہ یہاں کوٹہ سسٹم غیر قانونی ہے۔ انڈیا کا اچھوت یہاں ایم پی بن سکتا ہے۔ برطانوی سوسائٹی میں اگرچہ کسی نے کسی شکل میں امتیاز وجود ہے مگر اس کے باوجود کچھ قانون اور ضابطے ہیں۔ پاکستان سے یہاں آکر بس ڈرائیورز اور فیکٹریوں میں کام کر نے والوں کے بچے آج ہاؤس آف لارڈز اورہاؤس آف کامنز میں بیٹھے ہیں۔ کیا پاکستان میں زبان، نسل اور علاقوں کی بنیادپر امتیاز نہیں ہوتا۔ یہاں بھی ہماری کمیونٹی میں برادری ازم ہے تو اسکو کیا کہیں گے۔’
برطانوی مسلمان نوجوانوں میں تیزی سے بڑھتے احساس محرومی کا ذمہ دار وہ کمیونٹی رہنماؤں کی عدم توجہی کو گردانتے ہیں۔’میں سمجھتا ہوں کہ سات جولائی کے واقعات مختلف امتیازات اور عدم مساوات کا رد عمل تھا کہ جب مسلمان نوجوان لڑکے یہ دیکھتے ہیں کہ ان سے رنگ نسل اور مذہب کی بنیاد پر امتیاز برتا جاتا ہے اور دوسری طرف وہ انٹرنیشنل لیول پر وہ فلسطین، غزہ اور دیگر جگہوں پر ظلم ہوتے دیکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری کمیونٹی میں قیادت کی کمی ہے جو ان نوجوانوں کو کسی درست سمت لے کر جائے اور جو ہے وہ صوفیوں کی شکل میں برطانوی حکومت سےگرانٹ لیتی ہے۔ آج ساٹھ یا ستر کی دہائی کے حالات نہیں بلکہ صورت حال مختلف ہے۔ہماری کمیونٹی میچور ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کررہی ہے۔ ہماری دوسری اور تیسری نسل جو یہاں پیدا ہوئی وہ برٹش مسلمان ہیں اور اسی انداز میں سوچتے ہیں۔ مساجد کمیونٹی حب کی بجائےفرقے بندیوں میں تقسیم ہیں اور عیدیں تک دو کی جاتی ہیں۔ ہم پاکستانی سیاست میں پڑے ہیں۔مساجد میں جاہل امام گوانتانامو بے اور لیبیا کی باتیں کرتے ہیں جبکہ مساجد کے امام کو سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہیے۔ مگر ہمارے لوگ جو یہاں لوگوں کے ووٹوں سے منتخب ہوئے ہیں تو انہیں پاکستان کی بجائے یہاں اپنے حلقے کے لوگوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ پاکستان سے اپنا تعلق بلکل ختم کر لیں مگر اپنی کمیونٹی کےنوجوانوں پر توجہ دیں۔ خصوصا ہماری کمیونٹی کے رہنماؤں ضروری ہے کہ وہ ان نوجوانوں کی رہنمائی کریں۔ پاکستان کی سیاست کے لیے وہاں کے سیاست دان کافی ہیں۔’
برطانوی حکومت وقت کے ساتھ امیگریشن قوانین کو بھی سخت سے سخت کرتی جارہی ہے اور امیگرنٹس کی سالانہ تعداد مخصوص کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔’امیگریشن قوانین کے حوالے سے ہم نے بڑی جدوجہد کی ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے اپنے لوگوں نے ان قوانین کو ابیوز کیا ہے۔ خاص طور پر ازائلم کو بہت بری طرح استعمال کیا گیا۔ لوگ یہاں آئے۔مستقل سکونت لی، برٹش پاسپورٹ لیا اور بیوی بچوں کو یہاں سوشل سکیورٹی پر چھوڑ کر خود پاکستان سیاست کرنےچلے گئے۔ میں امیگریشن قوانین میں رنگ، مذہب یا کسی بھی بنیاد پر امتیاز برتے جانےکے خلاف ہوں مگر حقوق کے ساتھ ہمیں اپنے فرائض اور ذمہ داریاں بھی ادا کرنی چاہیں ورنہ دوسری صورت میں ہم خود ان ایشوز کو پیدا کرکے نسل پرستوں کے ہاتھ مضبوط کررہے ہیں۔’
صبغت اللہ قادری کی اہلیہ کارٹرا سے ان کی شادی 1963 میں ہوئی اور اس جوڑے کے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ بیٹے بیرسٹر اور مصنف ہیں جبکہ بیٹی ایک ایکوکیشنلسٹ ہیں اور امریکہ میں اپنے فیملی کے ساتھ رہتی ہیں۔
مزید پڑھیے
گرمیوں میں خود کو اسمارٹ رکھیں
معمولی بیوٹی ٹپس کی مدد سے آپ اپنی خوبصورتی کو ساراسال برقرار رکھ سکتی ہیں تاہم اس کے لیے چہرے پرتوجہ کی ضرورت ہے۔
فسادات: ’واضح حکومتی حکمت عملی کی ضرورت’
لوکل کمیونٹی اور پولیس کے باہمی اعتماد میں تسلسل کے لیے لوگوں کے جائز سوالات کا جواب دینا ہوگا۔
شمی کپور کی فلمی زندگی پر ایک نظر
کریئر کی ابتدا میں ناکامی کا منہ دیکھنے والے شمی کو بالوں کی لٹ اور ڈانس نے بالاحر راتوں رات بالی وڈ سپر سٹار بنادیا۔
ہربل کاسمیٹکس کی دنیا کی بے تاج ملکہ شہناز حسین
آیوویدک کئیر اور کیور کو دنیا بھر میں متعارف کروانے والی شہناز کی ہربل مصنوعات کو آج ایک گلوبل برینڈ کی حیثیت حاصل ہے۔































