’پاکستان کی فوج کے سربراہ سے موازنہ نہیں کیا’
جمعرات, 05 جنوری 2012

بھارتی فوج نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ جن کے مطابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے سیکریٹری دفاع سے ایک ملاقات میں شکایتاً اپنا موازنہ پاکستان کی فوج کے سربراہ سے کیا تھا۔
انگریزی روزنامے ہندوستان ٹائمز نےاپنی ایک خبر میں یہ دعوٰی کیا تھا کہ جنرل سنگھ نے سیکرٹری دفاع ششی کانت شرما سے ملاقات کے دوران بطور شکوہ یہ کہا تھا کہ وزارت دفاع ان کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہی ہے جیسے وہ بھارت کے نہیں پاکستان کی فوج کے سربراہ ہوں۔
تاہم فوج نے جاری ایک بیان میں اس بات سے انکار کیا ہے کہ جنرل سنگھ نے سیکریٹری دفاع سے بات چیت کے دوران ایسا کوئی بھی موازنہ کیا تھا۔
فوج کے ہیڈکواٹر کا کہنا ہے کہ یہ خبر غلط ہے اور ’سنسنی’ پیدا کرنے کے لیے چھاپی گئی ہے۔
جنرل سنگھ کا دعوٰی ہے کہ ان کی پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون کو ہوئی تھی لیکن فوج کے زیادہ تر دستاویزات میں ان کی پیدائش کا سال اکیاون کے بجائے انیس سو پچاس درج ہے۔
جنرل سنگھ چاہتے ہیں کہ ان کی تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو اکیاون تسلیم کی جانی چاہیے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ امسال مئی کے بجائے آئندہ برس مئی میں ریٹائر ہوں گے۔ انہوں نے اپنی تاریخ پیدائش کی درستی کے لیے وزارت دفاع کو ایک باضابطہ درخواست بھی دی تھی۔
یہ تنازع کئی مہینوں سے سرخیوں میں ہے لیکن گزشتہ ماہ وزارت دفاع نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔
اخبار کے مطابق سیکرٹری دفاع اکیس دسمبر کو جنرل سنگھ سے یہ معلوم کرنے کے لیے ملنے گئے تھے کہ اس تنازع کے سلسلے میں ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔
اخبار نے سرکردہ سرکاری ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ جنرل سنگھ نے (ششی کانت شرما پر) واضح کیا کہ انہیں صرف اپنی عزت اور وقار کی فکر ہے اور تنازع کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہے کہ درخواست منظور کیے جانے کی صورت میں وہ مزید ایک سال فوج کے سربراہ رہ سکیں گے۔
اس ملاقات کے تقریباً ایک ہفتے بعد وزیر دفاع اے کے انٹونی نے جنرل سنگھ کی درخواست مسترد کر دی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے فوج کے نئے سربراہ کی تلاش کی کارروائی شروع کر دی ہے تاہم دوسری طرف یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ جنرل سنگھ سپریم کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔



























