ہاتھیوں کی ریس اور فٹ بال
جمعرات, 05 جنوری 2012

نیپال میں سیاحوں کی تعداد کو بڑھانے کے لیے کھٹمنڈو سے جنوب میں چتوان نامی علاقے میں ہاتھیوں کے تہوار میں مقابلہ حسن، فٹ بال اور ریس کے مقابلے ہوئے۔
ہاتھیوں کی گول کرنے کی مزیدار حرکتوں سے میچ کو دیکھنے کے لیے آنے والے بڑے محظوظ ہوئے۔ تین روزہ فیسٹول ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں آگاہی اور غیرملکی سیاحوں کی تعداد بڑھانے کےلیے کیا گیا تھا۔ اس کھیل کے لیے ان جانوروں کو کئ ہفتے قبل تربیت دی گئی تھی۔
ایک آرگنائزر گھنشیام شریستھا نے کہا کہ اس فیسٹول سے یقینا اور سیاح بھی چتوان کی طرف آئیں گے۔ ہمیں یقینا ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی ضرورت ہے۔ دس سال ماؤ باغیوں کی مزاحمت کے بعد نیپال میں اب سیاحت بڑھی ہے ۔گزشتہ سال باغیوں کی جانب سے 2006 میں ہتھیار ڈالنے اور امن کے عمل کی کامیابی کے بعد باغیوں کی مزاحمت گزشتہ سال ختم ہو گئی تھی۔ اس خانہ جنگی میں تقریبا تیرہ ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم ملک میں زیادہ تر سیاح ہمالیہ کے پہاڑوں پر آتے ہیں 2010 میں تقریبا چھ لاکھ سیاحوں نے نیپال کا رخ کیا تھا جبکہ حکومت نے گزشتہ سال کو سیاحوں کا سال قرار دے کر ایک ملین سیاحوں کی آمد کا ہدف رکھا تھا۔
ریس کا فائنل ایونٹ باجادور نامی ایک ہاتھی نے جیتا۔ فٹ بال میچ میں چار ٹیموں نے حصہ لیا۔ ان ہاتھیوں کی عمریں چار سے پانچ سال کے درمیان تھیں۔



























