یوکے چیرٹی کی وہیل چئیرز پرٹیکس
جمعرات, 05 جنوری 2012

برطانیہ کی ایک چیرٹی نے یہاں سے وہیل چئیر کنسائنمنٹ سری لنکا بھیجنے پروہاں کی حکومت کی جانب سےتقریبا پانچ ہزارپونڈ ٹیکس لگائے جانے پر تنقید کی ہے۔
یارک شائر کی چیرٹی فزیو نیٹ چیرٹی کے پیٹر تھامسن نے کہا کہ یہ شپمنٹ خانہ جنگی کا شکار ہونے والے تامل متاثرین کے لیے تھا جس کو کسٹم سے کلئیر ہونے میں تین ماہ لگے ہیں۔
دوسری طرف سری لنکن اتھارٹیز کا کہنا ہے کہ اس دیری کی وجہ دراصل اس شپمنٹ کا پیپرورک مکمل نہیں کیا گیا تھا۔ کولمبو میں آنے والے تمام شپمنٹ پر ڈیوّٹی عائد کی جاتی ہے۔
تاہم مسٹر تھامسن کا کہنا ہے کہ سری لنکا کی کرنسی کے حساب سے ایک ملین روپے اس مد میں دیا جانا ناقابل قبول ہے۔ دوسرے سری لنکن حکومت نے اس شپمنٹ کو متاثرین تک پہنچانے میں ہر قسم کی رکاوٹیں ڈالی ہیں۔
سری لنکن حکومت نے دو دہائیوں تک چلنے والی خانہ جنگی کے بعد مئی 2009 میں تامل ٹائیگرز کو شکست دی تھی جو کہ ملک کے شمالی اور مشرقی حصے میں آزادی کے لیے لڑ رہے تھے۔ مسٹر تھامسن کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال مزید کچھ شپمنٹ سری لنکا بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر اس صورت میں کہ جب یہ مشق دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔
کولمبو میں پورٹ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ چیرٹی کے مقاصد سمیت ملک میں درآمد کی جانے والی تمام اشیاء پر امپورٹ ڈیوٹی عائد کی جاتی ہے او راس شپمنٹ کی دیراس لیے ہوئی کیونکہ انہیں ریلیز کرنے سے قبل متعلقہ وزارتوں کی جانب سے اجازت نامے کا حصول ضروری تھا۔



























