یونس نظرثانی کی اپیل کریں گے
جمعرات, 05 جنوری 2012

بنگلہ دیش میں مائیکرو فنانس کے بانی محمد یونس سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے نظر ثانی کی درخواست دیں گے جس نے ان کے نوبل پرائز جینے والے بینک جرمین بینک سے برخواستگی کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔
انہیں گزشتہ سال دو مارچ کو اپنی ریٹائرمنٹ کی عمر کے گزر جانے کے بعد ملازمت سےنکال دیا گیا تھا۔ غریبوں کے بینکارکہلائے جانے والے ستر سالہ یونس نے اپنی برخواستگی کو چیلنج کیا تھا۔ تاہم ان کی اپیل کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔
یونس کی وکیل سارا حسین نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے اس فیصلے پرنظر ثانی کی درخواست دی ہے کیونکہ فیصلے میں قانون کی وضاحت کے حوالے سے کئی خامیاں ہیں جبکہ یونس کی قانونی ٹیم کو حال ہی میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی کاپی موصول ہوئی ہے۔
سپرم کورٹ نے مئی میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ گرامین بینک نجی نہیں بلکہ حکومتی ادارہ ہے جبکہ یونس اور ان کے قانونی مشیروں نے اس کو نجی بینک ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ اس ناطے دیگرملازمین کی طر ح یونس کو بھی ریاست کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کے قانون کی پاسداری کرنی ہوگی۔
ان کی زیر قیادت بینک نے 1983 میں اپنے قیام کے بعد سے دیہی علاقوں کی خواتین کو دس بلین سے آٹھ اعشاریہ تین ملین ڈالر تک کے قرضے جاری کیے تھے۔
یونس گزشتہ سال بارہ مئی کو اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔
یونس اور ان کے قائم کیےگرامین بینک کو نیچلے طبقے میں معاشی اور سماجی ترقی پر 2006 میں نوبل پرائز دیا گیا تھا ۔
ان کا یہ ماڈل دیگر ترقی پذیر ممالک میں بھی اپنایا گیا اور ان کی برخواستگی کے فیصلے پر امریکی حکومت سمیت تقریبا تمام مغربی ممالک کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی تھی۔
یونس کے سپوٹرز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شیخ حسینہ نے انہیں سیاسی دشمنی کا نشانہ بنایا ہے کیونکہ انہوں نے فوجی دور حکومت میں اپنی ایک سیاسی جماعت بھی بنائی تھی۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گرامین بینک کے ملکی مشعیت پر اثر اندازی اور اس کے موبائل فون، شمسی پینل اور دیگر اشیاء میں تیزی سے ابھرنے سے حکومت کے ناراضگی کو ہوا دی ہے۔
لیگل ایکسپرٹ کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز کی تعداد گنتی میں ہے کہ جہاں سپریم کورٹ کا فیصلہ نظر ثانی کی درخواست پر تبدیل ہوا ہو۔



























