A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

منگل, 22 مئی, 2012 | 1 رجب, 1433 ھجری
24°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

’ٹوری پارٹی کی امیگریشن پالیسی سے اختلاف ہے’

نامہ نگار خصوصی, لندن
سوموار, 09 جنوری 2012

یوکےپاکستان چیمبرآف کامرس کے چئرمین اور سپر سیواسٹورز کے چئیرمین چوہدری محمد صدیق ساٹھ کی دہائی میں اپنے والد کے ہمراہ محٰض تیرہ برس کی عمر میں برطانیہ  آئے۔ ابتداء میں  حلال میٹ شاپ پر کام کیا۔  بعد میں اپنے ماموں سر انور پرویز کے پہلے بیسٹ وے اسٹورکے ایریا مینیجر بنے۔ انہی کے مشورے پر سپر سیو کے نام سے ہینڈن سینٹرل میں ایک ہزارپونڈ سےدکان کھولی اور آج  ملٹی ملین بزنس ایمپائر کے مالک ہیں۔ وہ اپنی کامیابی کا سہرا اپنی انتھک محنت، ماں باپ کی دعاؤں اور اہلیہ کی ہمت افزائی کو دیتے ہیں۔ ان  کے چار بچے ایک بیٹی اورتین بیٹے ہیں۔ بیٹی ڈاکٹر، بڑا  بیٹا بیرسٹر، دوسرا  اکاؤنٹنٹ جبکہ چھوٹا یونی ورسٹی میں ہے۔

 آزاد کشمیر میر پور سے تعلق رکھنے والے چوہدری محمد صدیق کا خاندان منگلاڈیم کی تعمیر کے سبب پنڈی میں پشاور روڈ پر آکر آباد ہوگیا۔ ’میرے والد کسان تھے اور گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ سن 1968 میں یہاں آئے اور ایک فیکٹری میں کام کرنے لگے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دن والد  مجھے لے کر جہاز میں سوار ہوگئے اور بتایا کہ ہم  لندن جارہےہیں۔  یہاں آکر  گلاسٹر روڑ پر ایک پرائیوٹ اسکول میں داخل ہوگیا۔ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھتا۔ جیسے ہی تھوڑا  او ر  بڑا ہوا  اپنے ماموں سر انور پرویز کی ارلز کورٹ پر  واقع حلال میٹ کی دکان میں کام کرنے لگا۔وہاں میں دالیں اور چاول پیک کیا کرتا تھا۔ 1972 میں ماموں نے اولڈ برھمٹن  روڈ پر اپنی پہلی بیسٹ وے کیش اینڈ کیری کی شاپ پر کھولی تو میں نے وہاں فل ٹائم کام شروع کردیا۔ 1982 تک ان کے ساتھ کام کرتا رہا تاہم ماموں کےکہنے پر ہینڈن سینٹرل میں سپر سیو کے نام سے اپنا اسٹور کھول لیا۔ آج برطانیہ بھر میں سپر سیوکی25 سے زائد برانچیں ہیں’۔

اپنے کاروبار کی ابتداء کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’ 1982 میں جب میں بیسٹ وے کیش اینڈ کیری کا ایریا مینیجر بنا تو ماموں نے مجھے اپنا اسٹورکھولنے کا مشورہ دیا۔ میں اس وقت ان کے تین یونٹس کا انتظام سنبھالتا تھا اور کوئی تین سو کے قریب ملازمین میرے ماتحت کام کرتے تھے۔ ایک ہزار پونڈسے کام شروع کیاے۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ میرا بزنس ایمپائر ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ماں باپ کی دعا کے ساتھ آپ اگر کام محنت اورایمانداری سے کریں  تو پھر کامیابی یقینی ہے۔ ـجلد بازی کی بجائے ہمت اور صبر سے محنت کرتے رہیں۔مجھے آج اس مقام تک پہنچنے میں بیس سال سے زائد لگےہیں۔ میں آج جس مقام پر ہوں اس میں میری بیوی کی حوصلہ افزائی کا بڑا ہاتھ ہے  ۔ انہوں نے مشکل وقت میں ہمیشہ یہی کہا  کہ ہم سوکھی روٹی کھا لیں گے مگر آپ فکر نہ کریں۔ ’

اس دور میں ایک ایشین اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے کاروبار شروع کرنا یقینا دشوار تھا۔ اس بارے میں چوہدری صدیق کہتے ہیں کہ ’میں  ماموں  کے پاس سات دن  اور چودہ گھنٹے کام کرتا تھا۔ میری تنخواہ چھ پونڈ فی ہفتہ تھی۔اس وقت اور  اب چیزوں کی قیمتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کاروبار کی ابتداء میں پریشان ہو کر گھر جاتا تو والدین اور اہلیہ تسلی دیتے کہ ایک دن میری محنت ضرور رنگ لائے گی۔ میرا تجربہ صرف کنوینئس یا گروسری اسٹور کا ہی تھا۔  مجھے ایک جگہ سپر لکھا ہوا نظر آیا جو مجھے پسند آیا تو میں نے سپر کے ساتھ سیو لگا کر دکان کا نام سپر سیو رکھ دیا۔ ’

معاشی بحران اور مقابلے نے کاروبار کے لیے نسبتا مشکل حالات پیدا کردیئے ہیں اور کام کے طریقہ کار میں بھی فرق آیا ہے۔ ’ پہلے مقابلہ  اتنا سخت نہیں تھا جتنا کہ اب ہے۔ چند ہی دکانیں تھیں۔ سپر مارکیٹ اور کنوینئس اسٹور کا تصور نہیں تھا۔ اس وقت کرایہ، قیمتیں اور تنخواہیں بھی کم تھیں۔ آج منافع کی شرح تو وہی ہے مگر کرائے، قیمتیں اور تنخواہیں بہت بڑھ گئی ہیں۔ پہلے بڑی مشکل یہ بھی تھی کہ  بینک آسانی سے قرض نہیں دیتے تھے۔ اچھے اور ایماندار سٹاف کا ملنا  بھی یقینا ایک مشکل امر ہے۔ پھر پیچھے کیونکہ کوئی بیکنگ نہیں ہوتی تو اگر کاروبار میں نقصان ہوجائے تو بھی خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔’

’میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں آج پاکستان میں ہوتا تو مشکل سے کہیں پہنچ پاتا جبکہ یہاں مواقع ہیں اور اگر آپ محنت کریں تو کامیاب قدم چومتی ہے۔ میری اتنی تعلیم تو نہیں تھی مگر محنت تھی جس کے بل بوتے پر آج یہاں تک پہنچا ہوں۔’

سپر سیو کوقائم ہوئے تقریبا چالیس سال ہونے کو آئے ہیں۔ ’معاشی بحران سے کاروبار پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔عام اسٹور کے مقابلے میں ہمارے اسٹور پرچیزوں کی ورائٹی زیادہ ہے۔ ہم کسٹمرز کو  بہترین سروس فراہم کرتے ہیں۔ ہم کسٹمر  کی مانگ کو دیکھتے ہوئے دوسرے دن وہ چیز اسٹور پر لےآجاتے ہیں۔ ہماری قیمتیں بڑے سپر اسٹور کے مقابلے میں کہیں مناسب ہیں۔ بڑے بڑے برینڈ لوگوں کی برین واشنگ کرکے مہنگا بیچ رہے ہیں اور صرف نام کی وجہ سے پیسے کما رہے ہیں۔’

چیرٹی کے کاموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے چوہدری محمد صدیق نے کہا کہ  پاکستان میں زلزلہ کے وقت میں نے کافی کام کیا ہے۔ وہاں  کئ گاؤں، اسکول اور مساجد بنائی ہیں۔ میرے اپنے چار اسکولوں میں یتیم بچے اور بچیاں پڑھ رہے ہیں جن کا میں تمام خرچ برداشت کرتاہوں۔ حالیہ سیلاب متاثرین کے لیے بھی فنڈ ریزنگ کی اور لوگوں کو گھر بنا کردےرہے ہیں۔ اس سے قبل سونامی، ایران ، بوسنیا اور ہٹی میں زلزلے اور قدرتی آفات پر جتنی مدد ہوسکتی تھی کی ہے۔ والد اور والدہ کے نام پر قائم الف دین ویلفئیر ٹرسٹ  کے ذریعے مختلف چیرٹی کاموں کو سپورٹ کرتا ہوں۔  1976  میں برینٹ میں چرچ کی عمارت  خرید  کر دی ماسک اینڈ اسلامک سینٹر  بنایا۔۔1990 میں مجھے اس مسجد کی انتظامی کمیٹی کا چئیرمین منتخب کیا گیا اور تب سے اب تک میں ہی اسکا چئرمین چلا آرہا ہوں’۔

بزنس کمیونٹی حکومتی پالیسوں سے بظاہر اس قدر مطمئن نظر نہیں آتی۔ معاشی گراف بھی معیشت میں بڑھوتی کی بجائے منفی رحجان کو ظاہر کررہے ہیں۔’معاشی بحران اس وقت پوری دنیا میں ہے ۔ اس حکومت کی کچھ پالیسیاں اچھی ہیں جیسے کہ چھوٹے کاروبار کو لون  دے رہے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ امیگریشن پالیسیاں سخت ہیں اور ہر ماہ ان میں کوئی نہ کوئی تبدیلی لارہے ہیں جس کو میں مناسب خیال نہیں کرتا ’۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے میڈیا میں اکثر امن و امان اور سکیورٹی کو ایک ایشو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ’ اسلام آباد، لاہور اور دیگر شہروں میں سپر سیو کے نام سے سپر مارکیٹ کھولنے کا پروگرام ہے۔وہاں پہلے ہی میرے کئی کاروبار چل رہے ہیں اور یہاں سے زیادہ منافع وہاں سے مل رہا ہے۔  یہاں ٹیکس مار دیتے ہیں۔ جہاں تک مسائل کا تعلق ہے  تو وہ کس ملک میں نہیں ہوتے۔ یہاں مقابلہ سخت ہے کیونکہ دنیا بھر سے لوگ یہاں آئے ہیں جبکہ پاکستان میں ابھی ڈولپمنٹ ہورہی ہیں  تو وہاں ترقی کے زیادہ مواقع ہیں۔ لیبر سستی ہے۔ یوکے پی سی سی آئی کے چیئرمین کے طور پر میں یہی نصیحت کروں گا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کا یہی مناسب وقت ہے’۔

’میں سمجھتا ہوں کہ تعلیم کے اعتبار سے ہمیں آگے لے کر جانا چاہیے۔ نئے آنے والوں کو میں یہی مشورہ دوں گا کہ کوشش کریں کہ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی مگر اپنا کام شروع کریں اورکام بھی وہ جس میں آپ کا کچھ نہ کچھ تجربے اور شوق ہو تو پھر ذرا سی محنت سے دیکھیے کہ بزنس کہاں سے کہاں پہنچتا ہے۔’

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%

مزید پڑھیے

کشمیر پر بھارتی موقف چیلنج کرنے والوں پر دباؤ

مسئلہ کشمیر پر بھارتی موقف سے اختلاف رکھنے والوں بشمول برٹش ممبر پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

نیتین پیک کے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر

نیتن سنسارا سائپرس کے پیک فٹ بال کلب کے ساتھ معاہدے کرنے والے پہلے برٹش ایشین فٹ بالر بن گئے ہیں۔

آلہ زیادہ کھانے والوں کوخبردار کرےگا

تحقیق کاروں نے ایک ایسا آلہ ایجاد کیا ہے جو لوگوں کو مقررہ وقت میں خوراک کی زیادتی کے حوالے سے خبردار کرے گا۔

گھر میں پیڈی کور سے پاؤں خوبصورت بنائیے

گرمیوں میں خصوصا آپ کو کھلے جوتے یا سینڈل پہننی پڑتی ہیں ایسے میں اگر پاؤں صاف نہ ہوں تو شخصیت بہت برا تاثر چھوڑتی ہے۔

 
Go To Top Go To Top