کہ تیری رہ زنی سے تنگ ہے دریا کی پہنائی

بدھ, 08 فروری 2012

پاکستان کی سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمہ میں وزیر اعظم گیلانی کے وکیل اعتراز احسن نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے حکم پر صدر آصف علی زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے بارے میں سوئس عدالت کو خط لکھا گیا تو اس کی وجہ سے صدرپاکستان کی دنیا بھر میں بے عزتی ہوگی۔
ان کا یہ بھی استدلال ہے کہ اگر خط کے جواب میں سوئس عدالت نے یہ کہا کہ صدر زرداری کو مقدمات سے استثنی حاصل ہے تو یہ سپریم کورٹ کی عزت پر بٹہ لگے گا۔ جہاں تک سپریم کورٹ کی عزت کا سوال ہے تو خود عدالت اعظمی کے جج سوئس عدالت کو خط بھیجنے کے مضمرات سے پوری طرح باخبر ہیں اور وہ اس پر مصر ہیں کہ سپریم کورٹ نے تین سال قبل صدر زرداری کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیےسوئس عدالت کو خط لکھنے کا جو حکم دیا تھا اس پر عمل کیا جائے اور دراصل اس سلسلہ میں حکم عدولی ہی سپریم کورٹ کی نظر میں توہین عدالت ہے۔ اس کے بارے میں تو عدالت اعظمی 13 فروری کو پوری طرح سے سماعت کرے گی اور اپنا فیصلہ دے گی لیکن اعتزاز احسن کی یہ دلیل کسی صورت وزنی نظر نہیں آتی کہ اگر سوئس عدالت کو خط لکھا گیا تو صدر زرداری کی بے عزتی ہوگی۔
یہ کیا کم بے عزتی ہے کہ ساری دنیا کے میڈیا میں پچھلے 15برس سے آصف علی زرداری کو ’مسٹر 10پرسنٹ’ کہا جارہا ہے۔ برطانیہ میں سرے محل کی ملکیت کا مقدمہ ’ سوئزرلینڈ میں منی لانڈرنگ کے الزام میں چھ ماہ قید اور پچاس ہزار ڈالر جرمانہ کی سزا’ اسپین میں تیل برائے خوراک کے پروگرام کے سلسلہ میں صدام حسین کو رشوت دینے کا مقدمہ اور فرانس میں آب دوزوں کے سودے میں رشوت وصول کرنے کا الزام کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
جنوری 1998میں نیویارک ٹائمز نے آصف علی زرداری کی کرپشن کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی ۔ اس رپورٹ میں خاص طور پر 4 ارب ڈالر کی مالیت کے فرانسسی آب دوزوں کے سودے میں 200ملین ڈالر کی رشوت طلب کرنے کے الزام کا انکشاف کیا گیا تھا ۔ اسی اسکینڈل میں فرانسسی صدر نکولا سرکوزی بھی ملوث ہیں اور ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا ہے ۔ رپورٹ میں سونے کی درآمد کے سلسلہ میں سونے کے ایک بیوپاری کو اجارہ داری دینے کے عوض پانچ پانچ ملین ڈالر کی دو ادئیگیوں کا بھی انکشاف کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو نے سرکاری ٹھیکوں میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی رشوت وصول کی ہے ۔
1998 میں میں سوئس عدالت نے زرداری اور بے نظیر بھٹو پر منی لانڈرنگ کی فرد جرم عائد کی تھی۔ ان پر سوئزرلینڈ کی ایک کمپنی سے پاکستان میں کسٹمز محصولات کی وصولی کا ٹھیکہ دینے کے عوض 8.6ملین ڈالر کی رشوت وصول کر نے کا الزام تھا ۔2003 سوئس عدالت نے اس الزام میں زرداری اور بے نظیر بھٹو دونوں کو چھ ماہ قید اور بچاس ہزار ڈالر جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف دونوں نے نومبر 2007 کو اپیل کی تھی لیکن اس اپیل کے بارے میں فیصلے سے پہلے این آر او کا نفاذ عمل میں آگیاجس کے تحت سوئس حکام نے 60ملین ڈالر کی منجمدشدہ رقم آصف علی زرداری کو واپس کر دی۔ سپریم کورٹ نے این آر او کے کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد جانے کے بعد اسی مقدمہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے سوئس عدالت کو خط لکھنے کا حکم دیا ہے اور اسی بناءپر 60 ملین ڈالر کی رقم متنازعہ ہو ہوئی ہے اور مقدمہ دوبارہ کھلنے کی صورت میں یہ رقم دوبارہ عدالت کے تحویل میں دی جانی لازمی ہے۔
اسی دوران لندن کی عدالت میں سرے محل کی فروخت کی رقم پر آصف علی زرداری کے دعوی کا مقدمہ برطانوی میڈیا میں خوب اچھلا تھا۔ راک ووڈ ہاؤس جو پاکستان میں سرے محل کہلاتا ہے اور جس سے ملحق 335ایکڑ فارم لینڈ ہے، 1995میں بے نظیر بھٹو کی وزارت اعظمی کے دوسرے دور میں 2.5ملین پونڈ میں خریدا گیا تھا۔ یہ محل سوئزرلینڈ میں بے نظیر بھٹو کے وکیل کے ذریعے خریدا گیا تھا او ر اس کے لیے رقم جنیوا کے بنک میں شیل کمپنیوں کے اکاونٹ سے ادا کی گئی تھی۔ سرے محل کے اصل مالکوں کے بارے میں انکشاف 1996میں اس وقت ہوا جب یہ الزام سامنے آیا کہ یہ محل آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی کرپشن سے حاصل شدہ رقم سے خریدا گیا ہے ۔ کرپشن کے اسی الزام کے تحت بے نظیر بھٹو کو برطرف کر دیا گیا تھا اور آصف علی زرداری کو قید کیا گیا تھا۔ اس دوران سرے محل جس کی قرقی ہو ئی تھی، ایک مقامی بزنس مین کو 4.3ملین پونڈ کے عوض فروخت کر دیا گیا۔ حکومت پاکستان نے اس رقم پر دعوی کیا اور اس سلسلہ میں یہ دلیل پیش کی کہ یہ رقم سرکاری فنڈ میں سے چرائی ہوئی رقم ہے۔
اس کے بعد آٹھ سال تک زرداری اور بے نظیر بھٹو تردید کرتے رہے کہ سرے محل ان کی ملکیت ہے جب کہ اس محل کی سجاوٹ کے لیے آرائشی سامان کراچی سے بے نظیر بھٹو کے مکان سے منتقل کیا جاتا رہا تھا۔ 2004میں جب زرداری نے قید سے رہائی پائی تو ان کے وکیلوں نے دعوی کیا کہ وہ سرے محل کے مالک ہیں۔ 2006میں یہ مقدمہ لند ن کی ہائی کورٹ میں پیش ہوا۔ جسٹس کولنس نے سماعت کے شروع میں یہ رائے دی کہ حکومت پاکستان کی طرف سے یہ ثابت کرنے کے مناسب امکانات ہیں کہ بے نظیر بھٹو یا ان کے شوہر زرداری یا دونوں نے مل کے راک ووڈ ہاوس کرپشن سے حاصل کی ہوئی رقم سے خریدا ہے اور اس کی آرائش کی ہے ۔ اس مقدمہ کی آگے سماعت نہیں ہو سکی کیونکہ آصف علی زرداری نے نیویارک سے یہ میڈیکل رپورٹس بھجوائیں کہ ذہنی امراض میں مبتلا ہیں جن میں فتور دماغ بھی شامل ہے۔
یہ بات بے حد اہم ہے کہ آصف علی زرداری کے صدر مملکت کے انتخاب کے دوران کسی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ وہ اپنے پرانے ذہنی امراض کی بناء پر صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں یا کم از کم ان کا ذہنی معائنہ کیا جائے۔این آر او کےنفاذ کے بعد حکومت پاکستان نے راک ووڈ ہاؤس پر دعوی کا مقدمہ واپس لے لیا۔
غرض بیرون ملک آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت ان مقدمات کے پیش نظر ان کی کیا عزت بچی ہے کہ اب اگر سوئس عدالت کو ان کے خلاف مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھا گیا تو اس سے ان کی اور پاکستان کی بے عزتی ہوگی۔ اعتزاز احسن کی یہ دلیل بہت کمزور نظر آتی ہے۔
پنجاب کے گورنر کھوسہ نے کہا ہے کہ سوئس عدالت کو خط لکھنا پاکستانی قوم اور پارلیمنٹ کی عزت کا معاملہ ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سوئزرلینڈ کے تھرڈ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے صدر کو گھسیٹنے کی باتیں افسوس ناک ہیں۔ گورنر کھوسہ یہ بھول گئے کہ اسی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ کے سامنے آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو پیش ہوئے تھے اور اسی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ نے انہیں منی لانڈرنگ کے الزام میں سزا سنائی تھی۔ ۔۔عزت ہی نہ ہو تو بے عزتی کیا ہوگی؟
مصنف کے بارے میں
| آصف جیلانی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز’ ۱۹۵۲ء میں روزنامہ امروز کراچی سے کیا ۔ ۱۹۵۹ء میں روزنامہ جنگ کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے دلی میں تعینات ہوئے۔ یوں پاکستان کے کسی اردو اخبارکے پہلے کل وقتی بیرون ملک نامہ نگار تھے۔ 1965 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کے دوران دلی میں گرفتار کر لئے گئے اور قیدیوں کے تبادلہ تک دلی کی تہاڑ جیل میں قید تنہائی کاٹی۔رہائی کے بعد ادارہ جنگ کے اخبارات کے یورپی نامہ نگار کی حیثیت سے لندن بھیجے گئے۔ اسی زمانہ سے بی بی سی لندن کی اردو نشریات میں حصہ لینا شروع کیا۔ لندن سے روزنامہ جنگ کے اجراء کے بعد ۱۹۷۳ء میں جنگ لند ن کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ ۱۹۸۳ء میں بی بی سی لندن کی اردو نشریات کے عملہ میں شامل ہوئے اور ۱۹۹۴ میں سینئر پروڈوسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ان کی ۲ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۱۔ وسط ایشیا ۔ آزادی کا چیلنج۔۲ ساغر شیشے لعل و گہر۔ |
































