A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

منگل, 22 مئی, 2012 | 1 رجب, 1433 ھجری
24°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

’قومی سلامتی پر آنچ صرف میمو گیٹ سے آتی ہے’

عائشہ غازی, لندن
بدھ, 08 فروری 2012

شمائلہ کی موت کو ایک سال گزر گیا، ایک سال اور بھی گزر جائے گا اور پھر بہت سے اور سال جن کی زندگی کو وقت ایک جھٹکے سے اچھال کر درہم برہم کر دیتا ہے، بس انہیں یاد رہتا ہے، باقی سب اگلا دلچسپ واقعہ ملتے ہی پچھلے والے کو بھول جاتے ہیں۔ آج شاید کوئی بھولا بھٹکا لمحہ ہمیں اس کی سسٹم کے خلاف اور حاکمِ وقت کے خلاف اتنے شدید احتجاج کی یاد دلاتا ہے۔ کل کو وہ لمحہ بھی بہت سے لمحوں کی بھیڑمیں کہیں گم ہو جائے گا اور ہمیں بہت مشکل سے یاد آئے گا کہ ایک فہیم نامی پاکستانی کی امریکن شہری کی ہاتھوں موت کے بعد اس کی بیوی شمائلہ نے کود کشی کر لی تھی کیونکہ اسے اپنے مقتول شوہر کی لاش کے ساتھ انصاف ہونے کی کوئی امید نہیں تھی۔

شمائلہ نے مرنے سے پہلے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسے صرف انصاف چاہیے، خون کے بدلے خون اور اس نے احتجاج کا یہ انتہائی طریقہ اس لیے اختیار کیا ہے کہ اسے حکومتِ وقت سے انصاف دیئے جانے کی کوئی توقع نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا جائے گا جو کہ بہت جلد درست ثابت ہوا ۔ انصاف تو خیر اسے کیا ملنا تھا، آج اس کی موت کے ایک سال بعد بھی ہم میں سے کوئی یہ تک نہیں جانتا کہ ہمارے دو شہریوں کہ چوک کے بیچ قتل کر دینے والے جس امریکی شہری کو ہم نے جیل میں بہترین مہمان نوازی سے نوازا اور جس کے لیے اپنے فوجی ہوائی اڈے کو کئی دن اٹینشن رکھا، اس کا اصل نام کیا تھا اور اور وہ پاکستان میں کن مزموم مقاصد کے لیے دندناتا پھر رہا تھا۔ اس کے پاس سے جو حساس مقامات اور دفاعی نظام کے نقشے اور تصاویر بر آمد ہوئیں جن میں کہ پیرا ملٹری فورسز کے قلعہ بالا حصار پر موجوجود ہیڈ کوارٹر اور پاکستانی فوج کے بھارت کے مشرقی بارڈر کے ساتھ موجود بنکرز تک کی تفصیلات موجود تھیں، وہ اس کے پاس کیوں تھے اور اس کے پاس جاسوسی کے جدید ترین آلات کیونکر موجود تھے۔ ان دو لوگوں کو تو چھوڑیئے جنہیں ہم نے خود اپنی ہی سیکرٹ سروس کے کارندے بتا کر ان سے وابستہ ہمدردی واپس لے لی، ہم کبھی اس تیسرے پاکستانی شہری کی موت کا حساب تک نہ مانگ سکے جو کہ ریمنڈ ڈیوس کو لینے آنے والی کار سے ٹکرا کر دم توڑ گیا۔

 
   

ریمنڈ ڈیوس کے پاس بھی وہ نام نہاد استثناء تھا جس کا ہمارے ہاں ہر حکومتی چور اُچکا دعوی لے کر بیٹھا ہے۔ چلئے ریمنڈ ڈیوس بہت اہم تھا اور اس مقام پر تھا جہاں سے آگے ہماری تمام تر جملہ حکومتوں کے پر جلتے ہیں چاہے وہ سیاسی حکومت ہو یا غیر سیاسی ، کم سے کم امریکی سفارت خانے کے ڈرائیور کو سزا دینے کی جرات تو کسی نہ کسی کو دکھانی چاہیے تھی ۔ مگر وہ بیچارہ تیسرا شہری تو اس واقعے میں سے ایسے زوم آوٹ ہو گیا جیسے اس کی ہلاکت کھیل کا حصہ تھی بس۔

آج سے ایک سال پہلے تک میں سوچتی تھی کہ ہم میں نام کی ہی سہی لیکن خود مختاری اور قومی غیرت کی کوئی رمق ابھی باقی ہے مگر ریمنڈ ڈیوس کی با عزت ر ہائی اور عافیہ صدیقی کی 86سالہ سزا کے بعد میری یہ خوش فہمی کافور ہو گئی۔ وہ سیاسی حکومتیں جو ’کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے‘ پر پل رہی ہیں، ریمنڈ ڈیوس کے پکڑے جانے پر یکایک گونگی بہری اندھی بن گئیں، بس بھٹو زندہ رہا، باقی سب زندہ درگور ہو گئے۔  وہ سیاسی حکومتیں جو شیر کی کھال پہن کر میمو گیٹ کی آواز سنتے ہی دھاڑتے ہوئے اپنی کچھار سے ایک ہی قلابازی میں عدالت کے صحن میں آن اترتی ہیں، دل کے عارضے میں مبتلا ہو کر پردیس جا پڑیں۔ خیر ان سب کو چھوڑیئے ، وہ حکومتیں جو حکومتوں پر حکمران ہیں، جنکے بوٹوں کی آواز سے سیاسی حکومت کے ا یوان لرز اٹھتے ہیں اور جنکے لیے اپنے ملک کی حدود کے اندر سے اپنے شہریوں پر ڈرون حملے کرنے کے لیے بہت سے فوجی ہوائی اڈے امریکہ کو کرائے پر دے دینے سے قومی سلامتی پر آنچ نہیں آتی بلکہ صرف میمو گیٹ سے آتی ہے، وہ سب ایسے حکومت کے تابعدار بن گئے جیسے سیاسی حکومت کی حکم عدولی ان کے لیے کفر کا درجہ رکھتی ہو۔

ہراہم قومی نا انصافی کی طرح یہ واقعہ بھی تاریخ کا سیاہ باب بن گیا۔ اور ہمیں تاریخ میں نئے سے نیا سیاہ باب لکھنے کی اتنی جلدی ہے کہ گزر چکے باب کو دوبارہ ایک بار بھی پلٹ کر دیکھنے کی ہمیں ضرورت نہیں رہی۔ بس اس سارے واقعے میں دو پہلو ہیں جو اس ملک کی نہیں بلکہ معاشرے کی تاریخ کا اہم باب ہیں۔ پہلا یہ کہ جس طرح سے شمائلہ نے اپنی جان دے کر نا انصافی اور ظلم کے خلاف اپنا احتجاج گونگے بہرے کانوں اور سیسہ پلائے ہوئے دلوں تک پہنچایا ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ دوسرا یہ کہ فہیم اور فیضان کے گھر والوں نے جس بے حسی اور عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بیٹوں کی لاشوں کی قیمت وصول کی ہے، اس کی بھی مثال ملنا مشکل ہے۔

مصنف کے بارے میں

لندن کی یونی ورسٹی آف ویسٹ منسٹر سے میڈیکل مو لیکیولر بائیلوجی میں ایم اس سی کرنے والی عائشہ غازی ایک شاعر ہ اور افسانہ نگار ہیں۔ان کا پہلا شعری مجموعہ ’ جہاں لفظ رکتے ہیں’ پاکستان میں شائع ہوچکا ہے جبکہ وہ دوسرے شعری مجموعے اور شارٹ اسٹوریز پر کام کررہی ہیں۔ وہ سماجی و سیاسی مضوعات پر کالم بھی لکھتی ہیں۔

تبصرے

ميرا ايڪ دوست جو ابهي يورپ مين آباد هوني ڪي ڪوشش

عزيز انيصاري

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%
 
Go To Top Go To Top