A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

منگل, 22 مئی, 2012 | 1 رجب, 1433 ھجری
24°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

توہین عدالت کیس:’ قانون اندھا سیاستدانوں کے لیے’

ندیم سعید, لندن
ہفتہ, 11 فروری 2012

سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے توہین عدالت کے الزام کے خلاف وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی اپیل مسترد کرنے کا فیصلہ قطعاً حیران کن نہیں، اگرچہ اسے بیرسٹر اعتزاز احسن کے لیے مایوس کن قرار دیا جا سکتا ہے کہ عدالت کے سامنے نہ ان کی قابلیت نے کام دکھایا اور نہ سینارٹی اور ججو ں کی بحالی میں مثالی کردار نے۔عدالت اپنی اتھارٹی منوانے کے لیے ’قانون اندھا ہوتا ہے’ کی ضرب المثل سے ایک ملی میٹر ہٹنے کو تیار نہیں چاہے ملک کے کمزور جمہوری نظام کو اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

ماناکہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری ہوتی رہی، قانون کی حکمرانی رہی اور عدلیہ نے کبھی آئین شکنی کی اجازت نہیں دی تھی وہاں قومی مفاہمتی آرڈیننس کے نام پر ہونے والے غیر آئینی اقدام کی اجازت کیسے دی جا سکتی تھی ۔ یہ اور بات ہے کہ آئین کی حکمرانی جمہوری دور میں یاد آتی ہے کیونکہ فوجی ادوار میں تو آئین ردی کی ٹوکری میں ہوتا ہے اور ہماری عدلیہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت اسے جائز قرار دیتی رہی۔

سب کو معلوم ہے کہ موجودہ چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری اس بنچ میں شامل تھے جس نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو تین سال کے لیے آئین میں اپنی سہولت کے مطابق ردوبدل کرنے کا اختیار دیا تھا۔انہیں چیف صاحب نے آٹھ سال بعد نوکری چھوڑنے سے انکار کیا تو گنگا نہا گئے۔ سیاستدانوں نے برطانوی راج کے خلاف جدوجہد کی، جنرل ایوب کو انکار کیا، جنرل ضیاء کے مارشل لاء میں انکار کے بدلے پھانسی چڑھے، کوڑے کھائے اورجلا وطن ہوئے۔ جنرل مشرف کو انکار کیا تو خاندانوں سمیت ملک سے نکال دیے گئے۔ ان تمام ادوار میں عدلیہ کو نہ آئین یاد تھا نہ انسانی بنیادی حقوق۔یہی سیاستدان کیانی اور پاشا کو بھی انکار کر رہے ہیں، جن کی گواہی کو عدالت نے منتخب حکومت سے زیادہ معتبر جانا ہے۔

حالات کا تجزیہ اداروں کے تاریخی کردار پر کیا جانا چاہیے ناکہ ایک واقعہ کی بنیاد پر۔ عدلیہ اور فوج کا اتحاد مولوی تمیزالدین کیس سے لیکر میمو کیس تک برقرار ہے۔عدالت تو اب چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی نوکری کی ضمانت بھی مانگنے سے نہیں جھجکتی۔

عدلیہ میمو کیس اور وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی میں جو تیزی دکھا رہی ہے وہ غیر معمولی ہے اور اگر کوئی اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے ہے کہ اس کا تعلق مارچ میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات سے ہے تو اسے یکسر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر جب ووٹر لسٹ کے مسئلے پر اٹھائیس ارکان پارلیمان کی رکنیت بھی عدالت نے معطل کردی ہو۔

فوج نے بحثیت ادارہ کبھی اپنے کسی عمل پر قوم سے معافی نہیں مانگی۔ بلکہ اگر اس کی قیادت میں سے کسی نے آئین شکنی کی، امریکیوں کے آگے اپنے ہی لوگوں کی لوٹ سیل لگا دی، ہوائی اڈے ڈرون حملوں کے لیے کرائے پہ چڑھا دیے اور سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی کارکنوں کو غائب کردیا تو بھی اسے گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا جاتا ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کہانی پیچیدہ سہی لیکن کیا سپریم کورٹ ان کی امریکہ حوالگی کے حوالے سے مشرف دور کے انٹیلیجنس حکام ، اس وقت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور دوسرے متعلقہ اہلکاروں کو طلب کر کے اس معمہ کو حل نہیں کر سکتی؟وہی خورشید قصوری جو اب عمران خان کے سونامی سٹیج پر جلوہ افروز ہیں۔

اگر عدالت کچھ کر بھی سکتی ہے تو نہیں کرے گی کیونکہ یہ ’قومی مفاد‘ میں نہیں ہوگا، ویسے قومی کو فوجی پڑھا جانا چاہیے۔عوام کے ہاضمے کے لیے یہی کافی ہے کہ حسین حقانی نے اچھے وکیل نہیں کیے یا حکومت نے ان کی رہائی میں دلچسپی نہیں لی۔ڈاکٹر عافیہ کو کس نے کن حالات میں امریکہ کے حوالے کیا اور اس کا انعام کس کس میں تقسیم ہوا یہ جاننا مفاد عامہ میں نہیں۔

نظریہ ضرورت صرف فوجی مفاد کے لیے ایجاد ہوا ہے کیونکہ جرنیلوں کے لیے اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرنا ضروری نہیں، سیاستدانوں کو اس کی ٹھنڈی ہوا نہیں لگنی چاہیے کیونکہ انہیں آئین کی دھوپ میں کھڑا ہونا ہے، ان سے نہ تو فوج رعایت کرے گی اور نہ ہی عدلیہ۔ پاکستانی پس منظر میں جہاں اداروں اور مستقل حکمرانوں کی ناکامیوں پر قومی مفاد اور مورال اونچا رکھنے کے نام پر پردہ ڈالا جاتا ہے وہاں سیاستدانوں کو اگر ملامتی صوفی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان کے عیب نمایاں اور خوبیاں مخفی رکھی جاتی ہیں۔

وزیراعظم گیلانی کو ہی لے لیں۔ فوج اور عدلیہ کو خوش رکھنے کی ہر کوشش کی لیکن دونوں ادارے چاہتے ہیں وہ ان سے معافی مانگیں، فوج میمو اور عدلیہ این آر اومعاملے میں مبینہ گستاخیوں پرنا خوش ہے۔ فوج کسی کو جوابدہ نہیں، عدلیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ عوام کو جوابدہ ہے (اس جوابدہی کا طریقہ کار کیا ہے کسی کو کچھ خبر نہیں) لیکن منتخب وزیراعظم ہر کسی کو جوابدہ ہے ۔

قوموں اور ملکوں کے حال نے ماضی بننا ہوتا ہے اور اس وقت ہی آج کے واقعات اور اقدامات کو نتائج کے روشنی میں پرکھا جاسکتا ہے، آج اگر کچھ لکھا جائے گا توپاکستان کے وہ لوگ جن کی سیاسی تربیت کا اہتمام سرشام ٹی وی چینلز پر نمودار ہوجانے والے نیم حکیم کرتے ہیں طعن و تشنیع پر اتر آئیں گے۔ اس لیے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ اداروں کے روایتی چلن میں افراد کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اور یہ پیغام انیس سو اٹھانوے میں جنرل جہانگیر کرامت نے خاموشی سے استعفیٰ دے کر واشگاف انداز میں دیا تھا۔

اعتزاز احسن وزیراعظم کی اپیل خارج ہونے کے بعد عدالت سے باہر صحافیوں سے مختصر کلام کر کے جب جارہے تھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے ڈیٹ مین واکنگ۔  میرے اندر ان کے دماغ میں گھسنے کی نہ ہمت ہے اور نہ صلاحیت کے اس وقت وہ کیا سوچ رہے ہونگے، لیکن ایک بات میں کہہ سکتا ہوں کہ ان کی چلائی ہوئی کالی آندھی کے اثرات جمہوریت کے پودے کے ٹند منڈ ہونے کی صورت میں نکلتے نظر آ رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ندیم سعید نے پاکستان میں ڈان، ہیرالڈ اور بی بی سی کے لیے کام کیا، بعد میں بی بی سی ورلڈ سروس کے ہیڈکوارٹر (لندن) میں پرڈیوسر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ وہ ٹاپ اسٹوری کے ایڈیٹر ہیں۔ ٹووٹر پر ان کا ایڈریس@NadeemSaeed ہے۔

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%
 
Go To Top Go To Top