A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

منگل, 22 مئی, 2012 | 1 رجب, 1433 ھجری
24°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

ویلنٹائن ڈے، آزاد خیالی اور انگریزی

آصف جیلانی, لندن
ہفتہ, 18 فروری 2012

چودہ فروری کو پاکستان میں بازاروں اور ٹیلی وژن چینلز پر عجب عالم تھا۔ سرخ گلابوں کی بھر مار تھی اور ٹیلی وژن چینلزپر ویلنٹائین ڈے ایسے منایا جارہا تھا کہ جیسے یہ پاکستان کے مسلمانوں کا اہم ترین مذہبی تہوار ہو۔اس دن کے تاریخی پس منظر سے یکسر نابلد ہر ایک ویلنٹائین ڈے کی ایسے مبارک پیش کر رہا تھا کہ جیسے عید ہو۔ ٹیلی وژن چینلز پر خاص پروگرام برپا کیے گئے اور موسیقارو ں اور فنکاروں کو بلا کر ایسی بچکانہ حرکتیں کی گئیں کہ لوگوں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اس کے مقابلہ میں یہاں برطانیہ میں خاموشی سے نجی طور پر تو لوگوں نے ایک دوسرے کو تحفے تحایف پیش کیے اور ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ضیافتوں کا اہتمام کیا لیکن ٹیلی وژن پر اتنا ہنگامہ نہیں تھا جتنا کہ پاکستان میں نظر آرہاتھا۔ بڑی عمر کے لوگوں کو اس بات پر سخت تاسف تھا کہ انگریزوں کی غلامی کے دور میں بر صغیر کے مسلمانوں نے یہ دن اتنی وارفتگی اور جوش و خروش سے کبھی نہیں منایا تھا جتنا کہ آزادی کے بعد اب لوگوں نے منانا شروع کر دیا ہے ۔ غلامی کے دور میں ہم ذہنی طور پر آزاد تھے اور اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کے حصول کے بعد ہم ذہنی طور پر غلام ہو ئے ہیں۔

معاملہ صرف ویلنٹائین ڈے کا نہیں جس کے پس پشت بنیادی طور پر تجارتی مفادات کے فروغ کی کاوش کارفرما ہے بلکہ در اصل یہ مغربی ثقافتی سامراجیت کی علامت ہے ۔ وہ دور گذر گیا جب جنگی جہازوں کے بیڑوں کے بل پر اور تجارت کی آڑ میں کمزور ممالک پر قبضہ کیا جاتا تھا اور انہیں اپنی نوآبادیاں بنا کر ان پر تسلط جمایا جاتا تھا۔ اب سامراجیت کا نیا دور اور نیا انداز ہے ۔ مغرب اب ایک نہایت منظم اور موثر طریقہ پر ثقافتی سامراجیت مسلط کر رہا ہے۔ دنیا کے لوگوں کی شناخت مسخ کر کے ان کے ذہنوں کو اپنا غلام بنا رہاہے ۔

سویت یونین کے زیر حصار ہنگری میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف 1989 کے کامیاب انقلاب کے فورا بعد میں بڈاپیسٹ میں تھا۔ ابھی عبوری صدر ماتیاس سیروش نے ملک کو جمہوریہ قرار دینے کا اعلان کیا ہی تھا کہ بڈا پیسٹ میں امریکیوں نے میکڈانلڈ کا پرچم لہرا دیا ۔ بڈاپیسٹ کے عوام کے نزدیک یہ کمیونزم کی شکست اور مغربی سرمایہ دارانہ نظام کی فتح کی علامت تھی۔ میکڈانلڈ میں فش برگر اور فرائیز کاآرڈر دیتے وقت بڈا پیسٹ کے لوگوں کے چہروں پر جو طماینت تھی وہ اس سے کہیں زیادہ تھی جو ہیرو چوک میں کمیونسٹ دور سے ہنگری کی آزادی کے اعلان کے وقت عوام کے چہروں پر تھی۔

 
   

اسی طرح سویت یونین کی مسماری کے بعد جب وسط ایشیا کی جمہوریایں آزاد ہوئیں تو اس کے فورا بعد میں1992 میں نو آزاد وسط ایشیا کے دورہ پر تھا۔ابھی آزادی کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ قزاقستان کے دارلحکومت المااتی کے قریب الی الاتاؤ جھیل کے کنارے پر،میں میکڈانلڈ دیکھ کر حیران رہ گیا۔ پھر ازبکستان کے درالحکومت تاشقند میں دیکھا کہ شہر کے جنوب میں ایف سی اور میکڈانلڈ کے ریستوران لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے اور ان کے قریب فٹ پاتھ پر امریکی جینز پر لوگ ٹوٹے پڑ رہے تھے۔ ایسا محسوس ہوا کہ وسط ایشیا میں امریکی ثقافتی تسلط کا بہت پہلے سے منصوبہ بنا رہے تھے اور جیسے ہی یہ ملک سویت یونین کی محکومی سے آزاد ہوئے امریکیوں نے یہاں بھر پور چھاپا مارا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کی حکمت عملی یہ رہی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کی نظریاتی تبلیغ کے بجائے عوام کے ذہنوں کو میکڈانلڈ، کے ایف سی، پیپسی اور کوکاکولا کے نشہ کا غلام بنایا جائے اور یوں ان کو ان اشیاء کا عادی بنا کران پر تسلط جمایا جائے۔ ہالی ووڈ بھی اس حکمت عملی میں شریک کار رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکا سے لے کر چین تک امریکی فلموں نے اس وسیع پیمانہ پر ثقافتی حملہ کیا ہے کہ ان فلموں کی وجہ سے نئ نسل کا طرز زندگی بدل گیا ہے ۔امریکی فاسٹ فوڈ امریکی لباس اور حتی کہ انگریزی کے امریکی لہجہ نے اس نسل کی شناخت مسخ کر دی ہے۔

پاکستان میں بھی مغربیت اس بری طرح سے مسلط ہوتی جارہی ہے کہ پاکستان کی نئی نسل اپنی شناخت کھوتی جارہی ہے ۔نوجوان مغربیت کو اپنانے کو آزاد خیالی کی علامت سمجھتے ہیں۔ اپنے آپ کو اونچے گھرانے کا کہلانے والے نوجوانوں کا اپنی مادری زبان اردو کے ساتھ نہایت ہتک آمیز رویہ ہے ۔ ان میں سے بہت سے نوجوان یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ اردو تو ہمارے گھر میں صرف ’ماسی’ بولتی ہے ۔یہ جانے بغیر کہ کہولے پر ٹکی ہوئی زمین پر جھاڑو دیتی ہوئی پتلونیں مغرب میں صرف نرے جاہل پہنتے ہیں اورمحض ایک کان میں ٹاپس صرف ہم جنس پرست پہنتے ہیں۔ پاکستان میں نوجوان نے یہ اندھی تقلید ایسے اختیار کی ہے کہ جیسے یہ اعلی تہذیب کی نشانی ہے۔ جسموں پر tattooکرانے (جسم کو گودنے ) کا بھی رواج اب پاکستانی نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں اس طرح وہ مغربی تہذیب سے سرشار ہو رہے ہیں۔ یہ نوجوان مغرب کی یہ تقلید تو کر رہے لیکن جو مغرب کی اعلی قدریں ہیں ان کے قریب بھی یہ نہیں پھٹکتے ہیں۔ بڑی قدروں کی بات تو الگ رہی چھوٹی چھوٹی باتوں کو یہ اپنانے سے گریزاں ہیں ۔ مثلا شکریہ ادا کرنا۔ کسی کے لیے دروازہ کھولنا ۔ کسی بوڑھے یا خاتون کو سڑک پار کرانا یا راستہ میں کسی معذور کی مدد کرنا۔ کسی نے سڑک پر کوئی کاغذ پھینکا ہے تو اسے خاموشی سے اٹھا کر کوڑے کے ڈبہ میں ڈالنا ۔یہ قدریں ہماری تہذیب کی بھی قدریں رہی ہیں۔ لیکن کیا کیا جائے۔کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔

بلا شبہ امریکی کلچر یورپ کے ملکوں میں بھی درانداز ہو رہا ہے۔ کوکا کولا، میکڈانلڈ اور امریکی فلمیں مقبول ہیں لیکن اس کے باوجود یورپیوں نے اپنے کھانے اپنی موسیقی اور اپنی فلمیں ترک نہیں کی ہیں۔ اپنی زبانوں کا ان میں تقدس مذہب کے مانند ہے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم گیلانی کی طرح وہ پارلیمنٹ میں تقریر انگریزی میں نہیں کرتے اور نہ پاکستان کے ٹیلیوژ ن پر سیاسی مباحثوں میں شرکت کرنے والے سیاست دانوں کی طرح وہ اپنی رائے انگریزی میں ظاہر نہیں کرتے ۔ایک بار رات کے بارہ بجے وزیر اعظم گیلانی ریڈیو اور ٹیلیوژن پر نہایت اہم مسئلہ  پر خطاب انگریزی میں کر رہے تھے ۔اتفاق سے ایک فرانسسی صحافی ہمارے گھر پر بیٹھے تھے۔ ٹیلیوژن کھلا تھا انہوں نے جب گیلانی کو انگریزی میں خطاب کرتے دیکھا تو بڑی حیرت سے مجھ سے پوچھا کیا پاکستان میں سارے عوام انگریزی سمجھتے ہیں۔ مجھ سے سچ نہ چھپایا جاسکا۔ میں نے کہا کہ یہ خطاب پاکستانی عوام کے لیےنہیں ہے بلکہ واشنگٹن کے حکمرانوں کے لیے ہے۔

امریکیوں سے جب یہ کہا جاتا ہے کہ میکڈانلڈ، کوکاکولا اور امریکی فلمیں ثقافتی سامراجیت کا مظہر ہیں تو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ یہ امریکی ثقافتی نمائندہ نہیں بلکہ یہ امریکی تجارتی پروڈکٹسں ہیں۔ یہ ثقافتی سامراجیت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اشیاءامریکی اقتصادی سامراجیت کی علامت ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اقتصادی سامراجیت کے کندھوں پر ثقافتی سامراجیت درانداز ہو رہی ہے اور دنیا بھر کے ملکوں پر مسلط ہو رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

آصف جیلانی نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز’ ۱۹۵۲ء میں روزنامہ امروز کراچی سے کیا ۔ ۱۹۵۹ء میں روزنامہ جنگ کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے دلی میں تعینات ہوئے۔ یوں پاکستان کے کسی اردو اخبارکے پہلے کل وقتی بیرون ملک نامہ نگار تھے۔ 1965 میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جنگ کے دوران دلی میں گرفتار کر لئے گئے اور قیدیوں کے تبادلہ تک دلی کی تہاڑ جیل میں قید تنہائی کاٹی۔رہائی کے بعد ادارہ جنگ کے اخبارات کے یورپی نامہ نگار کی حیثیت سے لندن بھیجے گئے۔ اسی زمانہ سے بی بی سی لندن کی اردو نشریات میں حصہ لینا شروع کیا۔ لندن سے روزنامہ جنگ کے اجراء کے بعد ۱۹۷۳ء میں جنگ لند ن کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ ۱۹۸۳ء میں بی بی سی لندن کی اردو نشریات کے عملہ میں شامل ہوئے اور ۱۹۹۴ میں سینئر پروڈوسر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ان کی ۲ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۱۔ وسط ایشیا ۔ آزادی کا چیلنج۔۲ ساغر شیشے لعل و گہر۔

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%
 
Go To Top Go To Top