A Community News Portal, Bringing The Asian Diaspora On The Web

Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

منگل, 22 مئی, 2012 | 1 رجب, 1433 ھجری
24°C
Partly Cloudy
Pakistan
06:22
India
18:22
Bangladesh
07:00
Srilanka
19:00
UK
17:58
USA
18:33
Canada
18:33
تازہ ترین خبریں

’ترقی پسند شعراء کا پیغام عام کریں’

نامہ نگار خصوصی, لندن
منگل, 21 فروری 2012

فیض کلچرل فاؤنڈیشن کے زیراہتمام کانوے ہال میں ’تین شاعر، ایک آواز’ کے نام سے استاد دامن، حبیب جالب اور فیض احمد فیض کی یاد میں ایک پروگرام سے خطاب میں بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ  پاکستان میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ترقی پسند شعراء کےامن ومحبت کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قیام کے فورا بعد امریکی کیمپ میں چلا گیا جس کے بعد استاد دامن، فیض اور جالب جیسے ترقی پسند شعراء اور ادیبوں کے گرد دائرہ حیات تنگ کردیا گیا۔ ترقی پسند خیالات اور تصورات کے لیے کال کوٹھریاں تجویز ہونی شروع ہو گئیں۔  ضیاء الحق کے مارشل لاء نے ویلفیئر اسٹیٹ کونیشنل سکیورٹی اسٹیٹ میں بدل دیا اور  ملٹری اسٹبلشمنٹ نے نیشنل سکیورٹی کا ہوا  کھڑا کرکےانڈیا  کو دشمن قرار دے د یا اور 1965 اور 1971 میں دو جنگیں مسلط کردی گئیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما کاکہنا تھاکہ اس دور میں بعض شعراء اور ادیب اسٹبلشمنٹ کے سامنے کے جھک  گئے مگر بعض نےانکار کردیا۔ فیض کو جلا وطن، جالب کو جیلوں میں قید اور دامن پر شراب کے مقدمے بنتے رہے۔ ویلفئیر اسٹیٹ کے خواب کو ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بار پھر عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی مگر اسٹبلشمنٹ کو ان کی یہ بات پسند نہیں آئی اور انہیں تختہ دار پر پہنچا دیا گیا۔ ملٹری اور ملا نے اتحاد کرلیا۔ سیاسی جماعتوں کے مسلح گروپ پید اکیے گئے۔ افغانستان پر روسی فوج کے قبضے کے بعد ملٹری اور ملاء مکمل طو پر ایک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری آئیڈیالوجی بدل دی گئی  جس کے سبب آج پاکستان میں عدم بدداشت اسقدر بڑھ گئی ہے کہ اب تو یہ عالم ہے کہ اگر کسی کی بات قبول نہیں تو اس کی سزا موت ہے۔ جالب کے لفاظ میں اپنے دور کے مظالم کی کاٹ تھی۔ جالب اور فیض سیاسی کارکن تھے اور ان میں انٹرنیشنل وژن یعنی پاکستان اورعالمی دنیا کا  سیاسی منظر ان کے سامنے تھا۔ فیض نے اپنے مارکسی نظریات کے سبب زیادہ صعبتیں برداشت کیں۔ اپنی  مٹی سے محبت ان تینوں کے خمیر میں تھی۔ دیار غیر میں آباد کمیونٹی بھی اپنے وطن سےاتنا ہی اپنے وطن سے پیار کرتی ہے۔

مجاہد بریلوی نے کہا کہ جالب کی شاعری ظالموں کو للکارتی ہے اور لوگوں کی آنکھوں میں آنسو لے آتی تھی۔ انہوں نے اپنی نظم’ میں نہیں مانتا’ سے اس دور کےنوجوانوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔ جالب میں بلا کی حس مزاح تھی۔وہ ایک ایسا چیک تھے جس کو کوئی حاکم وقت  کیش نہیں کروا سکا۔

پروفیسر امین مغل نے کہا کہ ان تینوں شاعروں میں ایک بات مشترک تھی کہ وہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کیا کرتے تھے۔ تینوں مخصوص دور کی پیداوار تھے اس لیے ان کی شاعری میں وہ موضوعات واضح نظر آئیں گے۔

فاؤنڈیشن کے کنوینر ایوب اولیاءنے کہا کہ تقریب کا مقصد پاکستان کےاعتدال پسند اور روشن خیال امیج کو دنیا کے سامنے پیش کرنا اور خصوصایہاں آباد نوجوان نسل کو ان کے ثقافتی ورثے سے آگاہ کرنا ہے۔ گزشتہ سال فیض میلے کی کامیابی کے بعد فیض کلچرل فاؤنڈیشن کے نام سے باقاعدہ ایک غیر منافع بخش تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ فیض، جالب اور دامن نے آمریت  کے خلاف جدوجہد کی اور وہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ترقی پسندی کی علامت ہیں۔

تنظیم کے کوآرڈینیٹر تنویر زمان نے کہا کہ ہمیں یہاں آباد کمیونٹی کو اپنے کلچرکے ساتھ جوڑنا ہے۔ ہم تمام انسانیت میں خوشی بانٹنا چاہتے ہیں۔طالبان کے لائف اسٹائل کو سب نے مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیض، جالب اور امن سمیت تمام صوفی شعراء ہمارا اثاثہ ہیں اور ہم نے ان کے امن اور محبت کے پیغام کو عام کرنا ہے۔

مجلس عامہ کے رکن  عاصم شاہ نے کہا کہ ان شعراء نے پاکستان میں جبر اور ظلم کے خلاف بڑی لڑائی لڑی ہے اور اپنے شعروں کے ذریعے عوام کو شعور دیا۔

شاہد دستگیر نے کہا کہ گزشتہ سال جون میں فیض میلےمیں نوجوانوں کی شرکت نے پاکستان کے عظیم ثقافتی اثاثے پر کام کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔

اکرم قائمخانی نے کہا کہ اس پروگرام  کا مقصد صرف ہلہ گلہ نہیں  بلکہ ان کے ذریعے  مقصد یہی ہے کہ امن پسند ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کے پیغام کو نہ صرف یاد کیا جائےبلکہ اسے اگلی نسل تک بھی پہنچایا جائے۔ نزہت عباس نے شعراء کی نظمیں ترنم میں پڑھیں جن کا انگریزی ترجمہ بھی پیش کیا گیا۔ براڈ کاسٹر ثقلین امام نے فیض کی ایک نظم پڑھی۔  

تقریب میں ہائی کمشنرواجد شمس الحسن نے بھی شرکت کی۔ مہمانوں کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے گئے۔ مجلس عامہ کے رکن ندیم سعید نے سب کا شکریہ ادا کیا۔  بعدازاں مقبول غزل گائیک رادھیکا چوپڑا،  لال بینڈ  کے علاوہ مایا یوسف نےبھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔

تازہ ترین ویڈیوز

مقبول سلائیڈ شو

کیا مخلوط حکومت کی معاشی پالیسیاں برطانیہ کو معاشی بحران سےنکالنے میں معاون ہیں؟

جی ہاں
13.95%
نہیں
79.07%
معلوم نہیں
6.98%

مزید پڑھیے

شاہ رخ خان کی حراست پر امریکی حکام کی معذرت

امریکی حکام نے بالی وڈ ایکٹر شاہ رخ خان کے نیویارک کے ہوائی پر تحویل میں لیے جانے کے واقعے پر معافی مانگ لی ہے۔

’کم کھائیں مگر اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں’

برنٹ مئیر کونسلر اسلم چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں سوسائٹی میں ادغام کے لیے سیاست اور سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہوگا۔

نئے فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والی فلمیں

بالی وڈ فیشن ہر دور میں مقبول رہا ہے۔فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کے انداز اور ملبوسات ہماری خواتین کی اکثریت کاپی کرتی ہے۔

احمد مختار کس ملک کے وزیر دفاع ہیں؟

حکومت’ فوج ’ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہشات کو ٹھکراتے ہوئے چوہدری احمد مختار نے ناٹو کی رسد کی بحالی کے لیے یہ دلیل پیش کی ہے کہ رسد پر پابندی بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔

 
Go To Top Go To Top