یورپی منڈیوں، کوششوں کو تیز کرنے پراتفاق
بدھ, 22 فروری 2012

برطانوی خارجہ سیکریٹری ولیم ہیگ نے اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں جی ایس پی پلس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کی یورپی منڈیوں تک رسائی کو ہر ممکن بنانے میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔
گزشتہ روز فارن اینڈ کامن ویلتھ آفس میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوطرفہ ملاقات میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ سمیت دیگر تمام اہم امور پر مزید تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ برطانیہ انسداد دہشت گردی، تجارت کے فروغ اور پاکستان میں ترقیاتی کاموں میں معاونت فراہم کررہا ہے۔ دونوں ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ باہمی حکمت عملی سے ہی دہشت گردی کو جڑ سے ختم کیا جانا ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2015 تک دوطرفہ تجارت کے حجم کو دو اعشاریہ پانچ بلین پونڈکے ہدف پر پہنچانے کے حوالے سےبھی اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔برطانیہ ڈبلیو ٹی او کی جانب سے یورپی یونین رعایتی پیکج میں اعلان کا بھی خیر مقدم کرتاہے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ ریجنل اور گلوبل سکیورٹی کے تناظر میں اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں مزید پیش رفت پر بات ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان گہرے تعلقات ہیں جن میں وقت کے ساتھ ان میں مزید پختگی آئی ہے۔ ایک ملین سے زائد پاکستان یہاں آباد ہیں۔ برطانیہ نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ میں صف اول کا کردار ادا کررہا ہے جس کی روشنی میں دنیا کو پاکستان کو امداد کی بجائے تجارتی حوالوں سے مضبوط اورعالمی منڈیوں تک رسائی میں مدد دینی چاہیے ۔ ڈبلیو ٹی کے یورپی یونین کے تجارتی پیکج میں رعایت کے حوالے سےبرطانیہ کے کردار پر ہم شکر گزار ہیں جس سے یقینا پاکستان کو معاشی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ برطانیہ یورپی یونین میں جی ایس پی پلس کے ذریعےپاکستانی مصنوعات کی رسائی میں بھی مدد دے گا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں اور خطے کی سکیورٹی کے لیے اہم ہے۔ افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بڑی قیمت ادا کی ہے اور کربھی رہا ہے۔ نائین الیون سے قبل پاکستان میں خودکش دھماکوں کا تصور نہیں تھا جبکہ اس جنگ میں شمولیت کے سبب ملک میں خود کش حملے شروع ہوئے۔ نیٹو سپلائی روٹ اب کھول دیا گیا ہے تاہم اس کے مستقبل کے حوالے سے مزید فیصلے بھی پارلیمان کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ نے ہر چھ ماہ بعد ملاقات پر اتفاق کیا ہے جس میں مختلف امور اور اسٹرٹیجک ڈائیلاگ میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے۔ ماضی میں ہونے والے پے درپے واقعات میں پاکستان کو اعتماد میں لینے کی بجائے نظر اندازکیے جانے کی پالیسی اختیار کی گئی جبکہ پاکستان امریکہ کا اہم حلیف ہے۔ افغانستان اور خطے میں امن اور سکیورٹی کے لیے دونوں کا ساتھ چلنا ضروری ہے۔ آئندہ تعلقات کی بنیاد باہمی مفاد کے احترام کی پالیسی پر ہوگی۔
ایک سوال کے جواب میں ولیم ہیگ نے کہا ہم افغانستان میں سیاسی مفاہمتی عمل کی حمایت کرتے ہیں تاہم ہم اس خطے میں بڑے پیمانے پر مفاہمی عمل کے خواہاں ہیں کینکہ اس سے پاکستان اور افغانستان کی سکیورٹی بھی مشروط ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں برطانوی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ ڈرون حملے کی بندش کا معاملہ امریکہ اورپاکستان کو مل کر سلجھانا چاہیے۔ تاہم وہ یہی کہیں گے کہ انسداد دہشت گرد ی کے حوالے سے عالمی قوانین کی پاسدار ی کی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیے
شاہ رخ خان کی حراست پر امریکی حکام کی معذرت
امریکی حکام نے بالی وڈ ایکٹر شاہ رخ خان کے نیویارک کے ہوائی پر تحویل میں لیے جانے کے واقعے پر معافی مانگ لی ہے۔
’کم کھائیں مگر اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیں’
برنٹ مئیر کونسلر اسلم چوہدری کہتے ہیں کہ ہمیں سوسائٹی میں ادغام کے لیے سیاست اور سماجی زندگی میں بھرپور حصہ لینا ہوگا۔
نئے فیشن ٹرینڈز متعارف کروانے والی فلمیں
بالی وڈ فیشن ہر دور میں مقبول رہا ہے۔فلموں میں ہیرو اور ہیروئن کے انداز اور ملبوسات ہماری خواتین کی اکثریت کاپی کرتی ہے۔
احمد مختار کس ملک کے وزیر دفاع ہیں؟
حکومت’ فوج ’ پارلیمنٹ اور عوام کی خواہشات کو ٹھکراتے ہوئے چوہدری احمد مختار نے ناٹو کی رسد کی بحالی کے لیے یہ دلیل پیش کی ہے کہ رسد پر پابندی بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔































